عدالت کا گٹر کے پانی سے سبزیاں اگانے پر آپریشن کا حکم

فائل فوٹو

کراچی: گٹر اور زہریلے پانی سے سبزیاں اگانے پر عدالت نے آپریشن کا حکم دے دیا۔

ملیر ندی میں گٹر اور زہریلے پانی سے سبزیاں اگانے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سندھ ہائی کورٹ میں ڈائریکٹر لیگل سندھ فوڈ اتھارٹی، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت و دیگر پیش ہوئے۔ عدالت نے پیشرفت رپورٹس پیش نہ کرنے پر متعلقہ حکام پر برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ مطلب یہ ہوا کوئی اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہا۔ یہ اتنا سنجیدہ معاملہ ہے کوئی محکمہ کام نہیں کر رہا۔ اگر گٹر کے پانی سے سبزیاں آگ رہی ہیں تو سبھی کا نقصان ہے۔

عدالت نے سیکرٹری زراعت سے جامع جواب طلب کر لیا اور سندھ فوڈ اتھارٹی سے سبزیوں کے نمونے کے رزلٹ بھی طلب کیے۔ عدالت نے ملیر ندی میں گٹر سے سبزیاں اگانے پر آپریشن کا بھی حکم دے دیا۔

عدالت نے متعلقہ حکام سے 17 فروری تک رپورٹس طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی زہریلے پانی سے سبزیاں اگائے تو فوری کارروائی کریں۔

عدالت نے فوڈ اتھارٹی سے استفسار کیا کہ بتائیں کتنے چھاپے مارے ؟ اور کیا زہریلے پانی سے سبزیاں کنٹرول کیں ؟ جس پر ایڈیشنل سیکرٹری زراعت نے مؤقف اختیار کیا کہ کمیٹی بنا دی گئی ہے مون سون کی وجہ سے رکاوٹ ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس سے مون سون کا کیا تعلق ؟ سندھ فوڈ اتھارٹی کیا کر رہی ہے ؟

ڈائریکٹر لیگل سندھ فوڈ اتھارٹی نے کہا کہ ہم نے نمونے لیے جن کے رزلٹ کا انتظار ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ رزلٹ آخر کب آئیں گے اور آخر نمونوں کے نتائج میں آتنی تاخیر کیوں ؟ اس کا مطلب آپ اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر رہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا ڈپٹی کمشنرز کو کارروائی کے لیے عدالتی حکم کی ضرورت ہے؟ کیا سندھ فوڈ اتھارٹی ہمارے فیصلے کا انتظار کرے گی ؟ ذمہ داری ادا کرنا ہر ادارے کا فرض ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز