پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ

اسلام آباد: وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاک افغان سرحدی علاقے میں بارڈر مارکیٹ کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔

اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وزیر خارجہ

ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ بات اپنے افغان ہم منصب محمد حنیف اتمر کے ساتھ ٹیلی فونک بات چیت کے دوران کہی۔

ٹیلی فونک بات چیت میں پاکستان اور افغانستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان دو طرفہ تعلقات اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے دو طرفہ معاہدے کے مسودے کو جلد حتمی شکل دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

شاہ محمود کی اپوزیشن اتحاد کا شیرازہ جلد بکھرنے کی پیش گوئی

مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہ کہ پاکستان شروع سے افغان مسئلے کے پرامن، جامع اوردیرپا حل کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے امریکہ اورطالبان امن معاہدے سے متعلق مشترکہ ذمہ داری کے تحت مصالحانہ کردارادا کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان بین الافغان مذاکرات کے انعقاد کو افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ایک نادر موقع تصورکرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الافغان مذاکرات کا نتیجہ خیزہونا خطے میں امن و استحکام کے لیے ناگزیرہے۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے بات چیت میں معمولی جرائم کی پاداش میں افغان جیلوں میں قید پاکستانیوں کی جلد رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا۔

افغان امن عمل میں بھارت کی گریٹ ڈبل گیم کاانکشاف

ہم نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغان امن عمل سمیت خطے میں امن کے لیے مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز