بھارت نے ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس پر مستقل پابندی عائد کر دی

پشاور ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک سے پابندی ہٹادی

فوٹو: فائل

نئی دہلی: بھارت نے ٹک ٹاک اور وی چیٹ سمیت 59 ایپلیکیشنز (ایپس) پر مستقل طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔

ان ایپس پر بھارت کی وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی نے پابندی عائد کی۔ قبل ازیں ان ایپلیکیشنز پر جون 2020 میں پابندی عائد کی گئی تھی تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ حالیہ پابندی مستقل طور پر عائد کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس یونیفارم میں ٹک ٹاک ویڈیوز بنانا میاں بیوی کو مہنگا پڑ گیا

بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے کمپنیوں سے تفصیلات طلب کی تھیں کہ وہ صارفین کی کیا کیا تفصیلات جمع کرتے ہیں اور انہیں کن مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق بظاہر یہی لگ رہا ہے کہ کمپنیوں کی جانب سے دیے گئے جوابات حکومت کو مطمئن نہیں کر سکے جس کی وجہ سے مستقل طور پر پابندی عائد کی گئی۔

قبل ازیں جون 2020 میں بھارتی حکومت نے چین کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

علی بابا گروپ کے یو سی براوٴزر، فیشن ایپ شائن اور بائیڈو میپس پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

چین کے ساتھ لداخ کے سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران انڈین حکومت نے اس فیصلے کو ایمرجینسی حل اور قومی سلامتی کے لیے ضروری قدم بتایا تھا۔

دونوں ممالک کی افواج کے درمیان پر تشدد جھڑپ میں 15 جون کو 20 انڈین فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: روس نے اپنی ٹک ٹاک ایپ لانچ کرنے کا اعلان کر دیا

بھارت کے وزیر اطلاعات اور نشریات روی شنکر پرساد نے ٹویٹ کر کے کہا تھا کہ ‘یہ پابندی سکیورٹی، خود مختاری اور سالمیت کے لیے ضروری ہے۔ ہم انڈین شہریوں کے ڈیٹا اور پرائیویسی میں کسی طرح کی جاسوسی نہیں چاہتے ہیں۔’

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز