کھوکھر پیلس:ڈی سی لاہور کے حکم پر عمل درآمد معطل


لاہور: ہائی کورٹ نے کھوکھر پیلس کو گرانے کے 18 جنوری کے ڈی سی لاہور کے حکم پر عمل درآمد معطل کر دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے کھوکھر پیلس مسمار کرنے کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی۔

ہائیکورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو فوری طور پر کھوکھر پیلس خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے سیٹلمنٹ کے لیے فریقین کو سول عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت بھی کی۔ عدالت نے سول کورٹ کے حتمی فیصلے تک حکومت اور ضلعی انتظامیہ کو مداخلت سے روک دیا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کھوکھر پیلس کس قانون کے تحت مسمار کیا گیا؟ متعلقہ قانون پیش کریں۔

یہ بھی پڑھیں: کھوکھر برادران سے38کنال سرکاری اراضی واگزار

چیف جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے ہیں کہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ پیلس ایل ڈی اے قوانین کیخلاف ورزی پر مسمار کیا گیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب آصف عزیز بھٹی نے درخواست کی مخالفت کی اور دلائل میں کہا کہ درخواست گزار مجاذ عدالت جانے کے بجائے براہ راست یہاں آ گیا ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کس کے حکم پر کھوکھر پیلس مسمار کیا گیا؟ سرکاری وکیل نے بتایا ڈی سی لاہور نے مسماری کا حکم دیا تھا اور چوبیس جنوری کو کھوکھر پیلس مسمار کر دیا گیا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ تئیس جنوری کو ڈی سی لاہور نے اے سی کو حکم دیا پھر درخواست گزار کو وقت دیے بغیر اگلے روز پیلس مسمار کر دیا گیا۔


متعلقہ خبریں