فیس بک صارفین کا ڈیٹا پھر چوری ہو گیا

فیس بک کا آسٹریلیا میں نیوز پیچز بحال کرنے کا اعلان

فائل فوٹو

سماجی رابطوں کی معروف ویب سائٹ فیس بک کے صارفین کا ڈیٹا ایک بار پھر چوری ہو گیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ٹیلی گرام پر فیس بک کے پچاس کروڑ نمبر فروخت کیلئے پیش کر دیئے گئے۔

دوسری جانب فیس بک کا کہنا ہے کہ یہ ڈیٹا اگست 2019 سے پہلے کا ہے۔ اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے گئے تھے۔

سیکیورٹی ریسرچرز کے مطابق کہ دنیا بھر کے سو ممالک کے صارفین متاثر ہو سکتے ہیں۔

فیس بک اور گوگل کا اشتہارات پر اجارہ داری کیلئے معاہدہ

یاد رہے کہ چند روز قبل فیس بک اور گوگل کا اشتہارات پر اجارہ داری کے لیے ایک دوسرے سے معاہدے کا انکشاف ہوا تھا۔

نیویارک ٹائمز نے امریکی ریاست ٹیکساس کی جانب سے دائر اینٹی ٹرسٹ کیس کی دستاویزات حاصل کی ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ دونوں کمپنیوں کے درمیان 2018 میں معاہدہ ہوچکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس بلاک رکھنے کا فیصلہ  

دستاویز کے مطابق دونوں کمپنیوں کے درمیان یہ معاہدہ اشتہارات کے لیے مقابلہ کم کرنے کے لیے کیا گیا، جسے جیڈائے بلیو کا نام دیا گیا تھا۔

معاہدے کے تحت فیس بک ان 90 فیصد اشتہارات کی نیلامی کا حصہ بن سکتی تھی جو اسے صارفین کی شناخت کرنے میں مدد دیتے، جبکہ گوگل کو نیلامی کے اس عمل میں شرکت سے گریز کا کہا گیا تھا۔

اس معاہدے کے تحت فیس بک اور گوگل نے ایک دوسرے کے مختلف شعبوں میں اشتہارات کے حوالے سے آسانیاں فراہم کی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق معاہدے سے فیس بک کو زیادہ فائدے حاصل ہوئے ہیں کیونکہ اسے اشتہارات کی نیلامی کے لیے زیادہ وقت ملا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز