خواتین پولیس اہلکاروں کیلئے حجاب: برطانیہ بھی نیوزی لینڈ کے نقش قدم پر

خواتین پولیس اہلکاروں کیلئے حجاب: برطانیہ بھی نیوزی لینڈ کے نقش قدم پر

خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے نیوزی لینڈ کی خاتون ڈیزائنر کی تیار کردہ سرکاری وردی ( پونیفارم) کے ڈیزائن کو دنیا بھر میں پزیرائی ملنے لگی ہے۔

نیوزی لینڈ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے برطانیہ نے بھی خواتین پولیس اہلکاروں کے لیے سرکاری وردی میں حجاب کو بطور ہیڈ ویئر شامل کرنے کے لیے کام کرنا شروع کردیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ میں لیسٹر شائر پولیس اب اپنی خواتین اہلکاروں اور افسران کیلئے نیوزی لینڈ پولیس کی یونیفارم کا پروٹوٹائپ آزمانے جارہی ہے۔

برطانیہ کی لیسٹر شائر کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے متنوع سماج کی عکاسی کرنے والی پولیس کی تشکیلہے جس میں مختلف نسل اور مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کی شمولیت ہو اور اس کا اظہار بھی ہو۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال نومبر میں نیوزی لینڈ پولیس کی گریجویشن کے موقع پر بھرتی ہونے والی کانسٹیبل زینا علی نے پولیس یونیفارم کے ساتھ حجاب متعارف کرایا تھا جس کے ساتھ ہی وہ حجاب پہننے والی پہلی مسلمان افسر بن گئی تھیں۔

میسی یونیورسٹی کالج کے سینئر لیکچرر ڈیب کمنگ ، جنہوں نے حجاب کے ڈیزائن پر کام کیا ہے، نے اس حوالے سے کہا کہ بیرون ممالک میں بھی حجاب کو کافی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

مزید پڑھیں: نیوزی لینڈ: عوام سے اسلحہ خریدنے کی مہم کو ملی شاندار پذیرائی

انہوں نے کہا کہ متعدد بین الاقوامی پولیس کی جانب سے حجاب کے حوالے سے کافی خاطر خواہ جواب ملا ، جو ڈیزائن پر بہت متاثر ہوئے اور یہ کس طرح پیشہ ور نظر آرہا تھا ، اور اس کے ڈیزائن میں تکنیکی پہلو بھی شامل تھا۔”

میسی یونیورسٹی کالج کے سینئر لیکچرر ڈیب کمنگ کا مزید کہنا ہے کہ لیسٹر شائر پولیس نے ان سے ان کی تیار کردہ یونیفارم کا سیمپل مانگ لیا ہے جو وہ  اپنی صحت اور حفاظت کی ضروریات کے مطابق بنائیں گے۔ برطانوی پولیس اپنی خواتین اہلکاروں کے لیے اس طرح کی یونیفارم بنانے میں سنجیدہ ہے۔

نیوزی لینڈ میں خواتین پولیس اہلکاروں کو سر پر دیگر ہیڈ ویئر کے ساتھ حجاب کو بطور اسکارف پہننے کی اجازت ہے۔

متعلقہ خبریں