آئی جی پنجاب نے نو گو ایریاز سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی

مریم نواز، حمزہ شہباز کے درخواستوں پر سماعت کرنے والے بینچ تحلیل

فائل فوٹو


لاہور: آئی جی پنجاب کپیٹن (ر) عارف نواز نے لاہور میں نوگو ایریاز ختم کرنے کی رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی ہے۔

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عابد شیخ نے مقامی شہری محمد حمید کی نو گوایریا ختم کرنے کی درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت آئی جی پنجاب نے رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کیمپ آفس ماڈل ٹاؤن اور رہائش گاہ سمیت دیگر نجی و سرکاری عمارات سے رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف کی رہائش گاہ جاتی عمرہ اور گورنر ہاؤس کے سامنے سے بھی رکاوٹیں ختم کردی گئی ہیں۔

مذہبی رہنما حافظ محمد سعید کی رہائش گاہ، انسٹیٹیوٹ آف منہاج القرآن، طاہرالقادری کی رہائش گاہ اور جامعہ قدسیہ کے باہر سے بھی رکاوٹیں ہٹائی جا چکی ہیں۔

اسی طرح آئی جی پنجاب کے دفتر، پاسپورٹ آفس گارڈن ٹاؤن اور ایبٹ روڈ سے بھی رکاوٹیں ہٹا دی گئی ہیں۔

درخواست گزارکے وکیل ندیم کوثر نے مؤقف اختیار کیا کہ ابھی تک سپریم کورٹ کے حکم کی مکمل تعمیل نہیں ہوئی کیونکہ ایمپریس روڈ پر امریکن قونصلیٹ کے ارد گرد رکاوٹیں موجود ہیں۔

سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کے خطرات کے پیش نظر چند جگہوں پر سیکیورٹی اور رکاوٹیں لگائی گئی ہیں۔

عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کس قانون کے تحت سیکیورٹی کی آڑ میں رکاوٹیں لگائی جاتی ہیں؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب وسیم ممتاز ملک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سپریم کورٹ کے حکم کی مکمل تعمیل کر دی گئی ہے۔

آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم  کے مطابق 16 اہم ترین مقامات سے نوگو ایریا کے نام پر لگائی گئی رکاوٹیں مکمل طور پر دور کر دی گئی ہیں۔

لاہورہائی کورٹ نے آئندہ سماعت پر سپریم کورٹ کی کارروائی کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت پانچ جون تک ملتوی کردی۔

 


متعلقہ خبریں