کورونا: 92 سالہ بزرگ انتقال کے 18 روز بعد زندہ برآمد

کورونا: 92 سالہ بزرگ انتقال کے 18 روز بعد زندہ برآمد

لسبن: پرتگال میں مردہ قرار دے کر جس بزرگ کی تدفین کے بعد آخری رسومات ادا کی گئیں وہ 18 دن بعد زندہ برآمد ہو گئے۔ بزرگ شہری مردہ قرار دیے جانے سے قبل دو ماہ تک نہ صرف اسپتال میں زیر علاج رہے بلکہ وہاں انہیں کووڈ -19 کا مرض بھی لاحق ہوگیا تھا۔

پاکستان میں کورونا ویکسین صرف10 کروڑ افراد کو لگے گی

مؤقر جریدے نیوز ویک کے مطابق شمالی پرتگال سے تعلق رکھنے والے 92 سالہ ماہلیورس ڈی پائیورس کو دس جنوری کو اسپتال انتظامیہ نے مردہ قرار دیا تھا۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق دو ماہ قبل سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کے پیش نظر انہیں زیر علاج رکھا گیا تھا جہاں وہ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس کا بھی نشانہ بن گئے تھے۔

عالمی جریدے کے مطابق ماہلیورس ڈی پائیورس کے لواحقین کو اسپتال سے فون کرکے اطلاع دی گئی کہ ان کے مریض کا انتقال ہو گیا ہے اور دو دن بعد تدفین کردی جائے گی۔

کورونا ایس او پیز کی وجہ سے انتقال کرجانے والے مریض کے بیٹے اوریلینو ویرا کو باپ کی نعش دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

کورونا وائرس: دنیا بھر میں 22 لاکھ 62 ہزار سے زائد اموات

اسپتال اتنظامیہ کی جانب سے انکار سننے کے بعد انہوں نے اپنے والد کے انتقال پہ صبر کیا اور آخری رسومات بھی ادا کردیں لیکن پھر گزشتہ ہفتے اسپتال انتظامیہ کی جانب سے غمزدہ خاندان کو بتایا گیا کہ ان کے والد زندہ ہیں اور جن کی تدفین کی گئی ہے وہ کوئی دوسرے شخص تھے۔

جریدے کے مطابق اوریلینو ویرا کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے اس غلطی پر معافی مانگی جس کے بعد میں نے اپنے والد کو جا کر دیکھا اوران سے بات بھی کی۔

اوریلینو ویرا کا کہنا ہے کہ وہ با آسانی یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ اسپتال انتظامیہ پر کووڈ-19 کی وجہ سے کس قدر دباؤ ہے اور بلاشبہ طبی عملہ دن رات پوری مستعدی سے مصروف عمل بھی ہے لیکن بہرحال آئندہ اس قسم کے واقعات کا اعادہ نہ ہو اسپتال کے عملے کو خیال کرنا چاہیے۔

کورونا وائرس سب سے پہلے مرغیوں میں پھیلا

بھارتی ریاست میں بنگال میں بھی کچھ دن قبل ایسا ہی ایک واقعہ پیش آیا تھا کہ جب 75 سالہ مردہ قرار دیا جانے والا شخص کچھ دن بعد زندہ سلامت اپنے گھر پہنچ گیا تھا۔ اس وقت بھی اسپتال انتظامیہ سے غلطی ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں