قومی اسمبلی: بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف بل منظور

صدر مملکت نے قومی اسمبلی کا اجلاس ہفتہ کو طلب کرلیا

فوٹو: فائل

اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرکاری و نجی اسکولوں، مدارس اور ٹیوشن سینٹرز میں بچوں کو جسمانی سزا نہیں دی جاسکتی ہے۔ قومی اسمبلی نے بچوں کو جسمانی سزا دینے کے خلاف بل منظور کرلیا ہے۔

تعلیمی اداروں میں جسمانی سزا، تحقیق کیا کہتی ہے؟

ہم نیوز کے مطابق قومی اسمبلی سے منظور کیے جانے والے بل کے تحت بچوں پر تشدد کے مرتکب افراد کو نوکری سے فارغ کرنے کی انتہائی سزا دی جاسکتی ہے۔

منظور کیے جانے والے بل کے تحت ایسے افراد جو بچوں کو جسمانی سزا دینے کے مرتکب پائے گئے انہیں جبری ریٹائرمنٹ پہ بھیجا جا سکتا ہے، ان کی تنزلی کی جا سکتی ہے اوریا پھر ان کی تنخواہوں میں کٹوتی بھی ہو سکتی ہے۔

ہم نیوز کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رکن اسمبلی مہناز اکبر عزیز نے بچوں کی جسمانی سزا کے خلاف احکامات وضع کرنے کا بل ایوان میں پیش کیا تھا۔

سرعام پھانسی دینے سے معاشرہ ٹھیک نہیں ہوگا، اسلام آباد ہائی کورٹ

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی وفاقی وزیر شیری مزاری نے ایک شق میں ترمیم پیش کی جسے بل کا حصہ بنا لیا گیا۔

ہم نیوز کے مطابق بچوں پر تشدد کی ممانعت کا بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے والی مہناز عزيز نے کہا ہے کہ بل سیاسی جماعتوں کے تعاون سے پاس ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بل فی الحال اسلام آباد کے لیے ہے لیکن جتنی پذیرائی مل رہی ہے اسے دیکھ کر لگتا ہے اسے صوبے بھی ہاتھوں ہاتھ  لیں گے۔

’مار نہیں پیار‘ کے باوجود اسکولوں میں تشدد جاری

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ حکومت نے بل کو سپورٹ کیا کیوں کہ یہ ضروری تھا۔ انہوں ںے کہا کہ  بل پاس ہونے کے بعد رولز بنا کر اسے نافذ کرنا بھی لازمی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز