نئے امریکی مطالبات کے بعد بیجنگ واشنگٹن تجارتی جنگ میں شدت

نئے امریکی مطالبات کے بعد بیجنگ واشنگٹن تجارتی جنگ میں شدت | urduhumnews.wpengine.com

بیجنگ: باہمی تجارت کے موضوع پر چین امریکہ مذاکرات کے دوران واشنگٹن کے پیش کردہ سخت مطالبات نے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی جنگ میں شدت پیدا کر دی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق واشنگٹن نے بیجنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ باہمی تجارت میں امریکہ کو درپیش 200 ارب ڈالر کے خسارے کو 2020 تک کم کیا جائے۔ چینی ٹیکنالوجی پر سبسڈیز کم کرنے کے مطالبہ بھی بیجنگ کو دی گئی فہرست میں شامل ہے۔

جواب میں چین نے امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ چینی کمپنی زیڈ ٹی ای کو سافٹ ویئر اور آلات فروخت کرنے والی امریکی کمپنیوں پر عائد سات سالہ پابندی میں کمی لائی جائے۔

امریکہ نے اپریل میں اسمارٹ فونز اور دیگر ٹیلی کام آلات بنانے والی کمپنی زیڈ ٹی ای پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزام میں پابندی لگائی تھی۔ امریکی حکام کا موقف تھا زیڈ ٹی ای نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکی مصنوعات کا جہاز ایران بھیجا۔

یہ بھی دیکھیں: چین کی بڑھتی عسکری کارروائیوں پر امریکہ کو شکایت

واشنگٹن کا موقف ہے کہ چینی کمپنی پر پابندی کا تعلق سرحدی تجارتی پالیسی سے نہیں ہے۔ زیڈ ٹی ای نے اس پابندی پر ردعمل میں کہا تھا کہ یہ ناقابل قبول اورکمپنی کی بقا کے لیے خطرہ ہے۔

پابندی کے بعد چینی وزارت تجارت کے ترجمان نے بیان دیا تھا کہ امریکی اقدام کے جواب میں کسی بھی وقت ضروری اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔

ملتی جلتی خبر: چین نے لیزر لائٹ مارنے کا امریکی الزام مسترد کر دیا

بیجنگ کے حالیہ مطالبہ پر مذاکرات میں شریک امریکی وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ چینی موقف صدر ٹرمپ تک پہنچا دیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر چین سے وفد کی واپسی پر نئے اقدامات کا اعلان کریں گے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی مطالبات کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان موجود اقتصادی معاملات میں بہتری آنے کے بجائے تناؤ میں اضافہ ہو گا۔ واشنگٹن جو مطالبات پیش کر رہا ہے چین انہیں اپنے معاشی ماڈل کی بنیادی اقدار قرار دے کر مستقبل میں بہتری کا ضامن سمجھتا ہے۔

چائنہ ڈیلی نامی اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ بیجنگ مذاکرات میں اس شرط کے ساتھ شریک ہوا تھا کہ دونوں ملکوں کے لئے بہتر راستے تلاش کئے جا سکیں لیکن وہ چین کے مفادات کو نقصان پہنچانے والے اقدامات پر راضی نہیں ہو گا۔


متعلقہ خبریں