سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سےہوں گے، سپریم کورٹ


اسلام آباد: سینیٹ الیکشن کے متعلق سپریم کورٹ نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ ایوان بالا کے انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہی ہوں گے۔

 چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے چار ایک کی شرح سے رائے سنائی۔ ریفرنس پر سماعت کرنے والے بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحیی آفریدی شامل تھے۔

بینچ میں شامل چار ججز نے اپنی رائے میں کہا کہ سینیٹ انتخابات آئین کے ارٹیکل 226 کے تحت ہوں گے۔ خیال رہے کہ آئین کے آرٹیکل 266 میں واضح طور پر ذکرموجود ہے کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ رائے شماری سے ہوں گے۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ سکریسی حتمی نہیں ہوتی، الیکشن کمیشن کرپٹ پریکٹسز کو روکے۔ الیکشن کمیشن آئین کے تحت صاف وشفاف اورمنصفانہ انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ ملک کے تمام ادارے الیکشن کمیشن سے تعاون کے پابند ہیں۔

عدالت نے کہا آرٹیکل 218/3 کے تحت الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کرائے۔ کرپٹ پریکٹسز کو روکنے کے لیے عدالت ورکرز پارٹی کیس میں فیصلہ دے چکی ہے۔

الیکشن کمیشن اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ خاص طور پر کرپٹ پریکٹسز کو روکنے کے لیے آرٹیکل 220 کے تحت تمام قومی صوبائی ایگزیکٹیو اتھارٹیز تعاون کرنے کی پابند ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ووٹ کے خفیہ ہونے پر آئیڈیل انداز میں کبھی عمل نہیں کیا گیا۔ خفیہ ووٹنگ کے عمل کو انتخابی ضروریات کے مطابق ٹیمپر کیا جاتا ہے۔

تحریری طور پر دی گئی رائے میں ہے کہ ووٹ کی سیکریسی سے متعلق یہ عدالت پہلے ہی نیاز احمد بنام عزیز الدین کیس میں فیصلہ دے چکی ہے۔ اس کیس میں ووٹ کی سیکریسی دائمی نہ ہونے کے حوالے سے فیصلہ دیا گیا۔

سینیٹ انتخابات صاف شفاف کرانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے۔ آرٹیکل 222 کے تحت پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ الیکشن کے معاملات میں قانون سازی کرے۔

آئین واضح کرتا ہے کہ پارلیمان کی کسی بھی قانون سازی سے الیکشن کمشن کے اختیارات متاثر نہ ہوں۔ عدالت نے اپنی رائے میں الیکشن کمیشن کو ہدایت کی کہ سینیٹ انتخابات شفاف بنانے کیلئے تمام اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔

جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ

بینچ کے رکن جسٹس یحییٰ آفریدی نے دیگر ججز کی رائے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ انتخابات کے متعلق صدارتی ریفرنس پررائے نہیں دینی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس میں پوچھا گیا سوال قانونی نہیں، لہذا صدارتی ریفرنس بغیر رائے کے واپس بھیج دیا جائے

خیال رہے کہ صدر مملکت نے گزشتہ برس 23 دسمبر کو سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ ریفرنس میں سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ سے کروانے سے متعلق رائے طلب کی گئی تھی۔

ریفرنس میں کہا گیا کہ ماضی میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات آئین کے تحت نہیں کروائے گئے جبکہ آئندہ سال سینیٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت کروایا جاسکتا ہے۔

سینیٹ کا انتخاب الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت کرایا جاتا ہے۔ سینٹ کا الیکشن اوپن بیلٹ کے تحت ہو سکتا ہے۔ حکومت نے مؤقف اپنایا کہ اوپن بیلٹ سے سینیٹ الیکشن میں شفافیت آ ئے گی۔

ریفرنس میں کہا گیا تھا کہ خفیہ ووٹنگ کی وجہ سے سینیٹ الیکشن کے بعد شفافیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں۔

سپریم کورٹ میں اوپن بیلٹ سے متعلق صدارتی ریفرنس پر 20 سماعتیں ہوئیں۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام اور جماعت اسلامی نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کی ہے۔ عدالت نے پچیس فروری کو تمام فریقین کے دلائل سننے کے بعد رائے محفوظ کرلی تھی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز