سینیٹ الیکشن میں ووٹ کیسے ڈالے جائیں گے؟

تین مارچ کو سینیٹ کی نشستوں کے انتخاب کے لئے ووٹروں کی آگہی کے لئے الیکشن کمیشن نے ہدایات جاری کر دیں۔

پنجاب کی نشستوں پر اپوزیشن اور حکومت کے درمیان افہام تفہیم کے بعد سینیٹ کی نشستوں کو ووٹروں کی بنیاد پر تقسیم کردیا گیا اور پنجاب میں حکومت اور اپوزیشن اراکین بلا مقابلہ جیت گئے۔

قومی اسمبلی میں وفاق کی دو نشستوں جبکہ بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور سندھ کی گیارہ گیارہ نشستوں پر انتخابی دنگل تین مارچ کو سجے گا۔

الیکشن کمیشن نے ووٹروں کی آگہی کے لئے عام نشستوں، ٹیکنوکریٹ، خواتین اور اقلیتی نشستوں پر انتخاب کے لئے بیلٹ پیپر کے استعمال کی ہدایات جاری کی ہیں۔

جنرل، ٹیکنو کریٹ، خواتین اور اقلیتی نشستوں کے لئے الگ الگ بیلٹ پیپرز ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹر کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

ہر بیلٹ پیپر پر امیدواروں کے نام درج ہونگے، ووٹر اپنی پسند کے مطابق کسی بھی امیدوار کوترجیحی ووٹ اردو یا انگریزی میں لکھ کر دے سکیں گے۔

اردو اور انگریزی دونوں میں ترجیح لکھنے کی صورت میں ووٹ مسترد تصور ہو گا۔ ہندسوں کو الفاظ میں لکھنے کی صورت میں بھی ووٹ مسترد تصور ہوگا۔

کسی بھی امیدوار کو دو مرتبہ مختلف ترجیحی ووٹ دینے پر بھی ووٹ مسترد ہوگا۔ ہر امیدوار کو ایک ترجیح کا ووٹ دیا جاسکے گا۔

دو مختلف امیدواروں کو ایک ہی ترجیح کا ووٹ دینے سے بھی ووٹ مسترد کردیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کی ہدایت کے مطابق کسی امیدوار کے سامنے ترجیح ووٹ لکھنا اور متعلقہ خانہ چھوڑنا بھی بیلٹ پیپر کے مسترد ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے تمام صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے اراکین کو ووٹ پول کرنے کے حوالے سے تربیت بھی دی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز