قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان کا اجلاس ملتوی


قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان کا اجلاس ملتوی کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن کے تمام اراکین کل دن 12 بجے سندھ ہاوَس میں اکھٹے ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق چیئرمیں پاکستان  پیپلز پارٹی بلاول بھٹو تمام اراکین کو ظہرانہ دیں گے۔ ظہرانے میں اسمبلی اجلاس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر غور کیا جائے گا

اس سے قبل  پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ کل ہمارا کوئی رکن قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

وزیراعظم ایوان کا اعتماد کھو چکے، صدر کی سمری پبلک کی جائے، مریم نواز

ہم نیوز کے مطابق اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں مولانا فضل الرحمٰن نے ہواؤں کا رخ بدلنے کی خبر بھی دی۔

امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب سے ہم نے احتجاج شروع کیا ہے تو ہواؤں کا رخ بد لنا شروع ہوگیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے ہاتھ سے سب کچھ نکل چکا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اپوزیشن کی عدم شرکت کے بعد اجلاس کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ
وزیراعظم کے خطاب سے ان کی شکست ظاہر ہورہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن سےمتعلق وزیر اعظم نے خود کہا کہ ووٹ بکے ہیں تو بتایا جائے کہ کیا آپ پی ڈی ایم کے خلاف لوگوں کو نکالیں گے؟

پی ڈی ایم کی طرح کا چوہا سمجھ رکھا ہے جو ڈر ڈر کر فیصلے کرے؟ وزیراعظم

ہم نیوز کے مطابق امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ نے نوکریوں کا وعدہ کرکے لوگوں سے روزگار چھین لیا۔ انہوں نے کہا کہ لوگ آپ سے پوچھیں گے کہ آپ نے مہنگائی کیوں کی؟

سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان نے واضح طور پر کہا کہ ہم سے کوئی رابطے میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدم اعتماد سینیٹ کے الیکشن میں یوسف رضا گیلانی کی کامیابی کی صورت میں ہوچکا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق انہوں ںے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کل وہ اعتماد کا ووٹ لیں گے تو ان اراکین کا ووٹ بھی شامل ہو گا جن کو وہ بکاؤ مال کہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان خود اپنی پارٹی کے اراکین کو بکاؤ مال کہہ رہے ہیں۔

اب فیصلے خان نہیں، ہم کریں گے: بلاول بھٹو

امیر جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمان نے کہا کہعمران خان کے بقول سینیٹ الیکشن میں بولی لگی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے اجلاس بلانے کے لیے یہی لکھا ہے کہ اکثریت کا اعتماد کھو چکے ہیں


متعلقہ خبریں