عراق میں مفادات کے دفاع میں حملہ کرنا پڑا تو کرینگے، امریکی سیکریٹری دفاع

عراق میں مفادات کے دفاع میں حملہ کرنا پڑا تو کرینگے، امریکی سیکریٹری دفاع

واشنگٹن:  امریکہ نے کہا ہے کہ عراق میں اپنے مفادات کے دفاع میں اگر جوابی حملہ کرنا پڑا تو کریں گے اور ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ حملہ کب اور کہاں کرنا ہے؟ اس کا فیصلہ امریکہ کرے گا۔

کورونا وبا، سیکیورٹی خطرات کے باوجود پوپ فرانسس عراق پہنچ گئے

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراق میں عین الاسد فوجی اڈے پر کیے جانے والے میزائل حملے کے ردعمل میں امریکہ کے سیکریٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ ہم حملہ کریں گے لیکن اس وقت جب ہمیں لگے گا کہ اس کی ضرورت ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سکیرٹری دفاع لائیڈ آسٹن نے مؤقر امریکی نشریاتی ادارے اے بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اپنے فوجیوں کا تحفظ کرے گا اور سوچ سمجھ کر مناسب جواب دے گا۔

عراق کے صوبہ انبار میں واقع عین الاسد فوجی اڈے پر گزشتہ ہفتے میزائل حملہ ہوا تھا جہاں امریکی، عراقی اور دیگر اتحادی افواج موجود ہیں۔

امریکہ جوہری معاہدے پر ایران کیساتھ دوبارہ مذاکرات کیلئے تیار

امریکہ کے سیکرٹری دفاع نے دوران انٹرویو کہا کہ امریکہ نے عراق سے واقعے کی جلد تحقیقات کرنے اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے کہا ہے۔

امریکی دفاعی ادارے پینٹاگون کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ میزائل حملے میں امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن حملے کے وقت شیلٹر میں پناہ لیتے ہوئے ایک امریکی سویلین کنٹریکٹر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا ہے۔

اسرائیل نے ایران کے اندر اہداف کا تعین کر لیا ہے، وزیر دفاع کا دعویٰ

خبر رساں ایجنسی کے مطابق عراقی حکام کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ 10 راکٹ آکر گرے تھے۔ اسی فوجی اڈے پر گزشتہ سال بھی میزائل حملہ کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز