کورونا ویکسین کی گولی و کیپسول کی شکل میں تیاری

بھارت: کورونا کیسز میں تیزی، ایک دن میں 20 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ

نیویارک: عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے تیار کی جانے والی ویکسین انجکشن کے ذریعے انسانی جسم میں داخل کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان افراد کو سخت پریشانی کا سامنا ہے جو انجکشن کی سوئی سے گھبراتے ہیں لیکن اب ان کی پریشانی دور ہو جائے گی کیونکہ ایک ایسی ویکسین کی تیاری پر کام شروع کردیا گیا ہے جو گولی یا کیپسول کی شکل میں بآسانی نگلی جا سکے گی۔

کورونا ویکسین: امریکی کمپنی نے بچوں پر ٹرائل شروع کردیا

عالمی خبر رساں ادارے  کے مطابق کورونا ویکسین کی گولی و کیپسول کی شکل میں تیاری اور اویکس نامی کمپنی کر رہی ہے۔

اوراویکس نامی کمپنی دراصل دو کمپنیوں کے اشتراک سے قائم کی گئی ہے جس میں ایک کمپنی امریکی و اسرائیلی ہے جب کہ دوسری بھارتی ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق اوراویکس نامی کمپنی کی جانب سے ویکسین کے انسانوں پر پہلے مرحلے کے ٹرائل کا آغاز رواں سال جون میں متوقع ہے۔

منہ کے ذریعے جسم کے اندرداخل کی جانے والی ویکسین کو سیکنڈ جنریشن ویکسینز کا حصہ قرار دیا جارہا ہے جو زیادہ بڑے پیمانے پر تیار ہوسکے گی جب کہ اس کی تقسیم اور استعمال بھی نہایت آسان ہوگا کیونکہ اب تک جو ویکسین تیار کی گئی ہیں ان کا سب سے بڑا مسئلہ ٹرانسپورٹیشن کا بھی ہے جب کہ انہیں ایک خاص درجہ حرارت پر بھی رکھنا ہوتا ہے۔

اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ اگر انسانی ٹرائل میں یہ ویکسین کامیاب ہو گئی تو بھی اس کی منظوری کے لیے کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

اسلام آباد: کورونا کے باعث 545 افراد جان کی بازی ہار گئے

کمپنی کی جانب سے اس ضمن میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی ویکسین کو لوگ گھروں میں رہ کر بھی استعمال کرسکیں گے۔

بیان میں بتایا گیا کہ ویکسین کو عام فریج میں ایک سے دوسرے ملک بھیجا جاسکے گا اور کمرے کے درجہ حرارت میں محفوظ کرنا ممکن ہوگا جس کی وجہ سے دنیا بھر میں کہیں بھی اس کی سپلائی آسان ہوگی۔

ایسٹ اینجیلا یونیورسٹی کے میڈیسین پروفیسر پال ہنٹر نے اس حوالے سے کہا ہے کہ ہمیں درست طریقے سے تحقیق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ثابت ہوسکے کہ منہ سے دی جانے والی ویکسین کارآمد ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کی ویکسین ان افراد کے لیے اہم ہوسکتی ہے جو انجکشن کی سوئی سے خوفزدہ رہتے ہیں۔

پروفیسر پال ہنٹرکا کہنا تھا کہ ایسی ویکسین بازو میں انجیکٹ کرنے والی ویکسینز کے مقابلے میں دیگر فوائد بھی فراہم کرسکے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ انجیکٹ کی جانے والی ویکسینز عموماً سنگین بیماری کی روک تھام میں بہترین ہوتی ہیں مگر اکثر بیمار ہونے سے بچانے کے لیے بہترین نہیں ہوتی ہیں۔

چین سے کورونا ویکسین کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس اورل ویکسین کے جانوروں پر نتائج اب تک شائع نہیں ہوئے ہیں مگر کمپنی نے ان کو حوصلہ افزا ضرور قرار دیا ہے لیکن انسانوں پر نتائج ویسے ہی برآمد ہوتے ہیں؟ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہو گا۔

متعلقہ خبریں