گلگت: مسافر گاڑی پر فائرنگ، خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق، 7 زخمی، ملزمان گرفتار

گلگت: گلگت میں مسافر گاڑی پر نا معلوم مسلح ملزمان کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں خاتون سمیت 6 افراد جاں بحق اور & زخمی ہو گئے ہیں۔ جاں بحق افراد میں آرمی پبلک سکول نلتر کے پرنسپل سکندر حنفی بھی شامل ہیں۔

دہشت گردی واقعہ  گلگت کے سیاحتی مقام نلتر  میں پیش آیا۔ ٹیوٹا جیپ پر نلتر پائین کے مقام پر فائرنگ سے خاتون سمیت 6 افراد جابحق 7 افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

ایس ایس پی گلگت راجہ مرزا حسن اور مقامی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کا یہ واقعہ جمعرات کی سہہ پہر ساڑھے تین بجے رونما ہوا جب ایک مسافر بردار ٹویوٹا جیپ گلگت سے نلتر بالا جاتے ہوئے نلتر پائین میں پہنچی تو دہشت گردوں نے گاڑی پر فائر کھول دیا جس سے 5 افراد موقع پر جبکہ ایک خاتوناسپتال پہنچ کر دم توڑ گئی۔  گاڑی میں 18 مسافر سوار تھے۔

ایس ایس پی گلگت راجہ میرزا حسن کے مطابق نلتر واقعے کے تین ملزمان شریف الدین، طاہر حسین  اور واجد حسین کو نلتر پائین سےگرفتار کر لیا گیا ہے۔

اس سے قبل واقعے میں جاں بحق ہونے والے پرنسپل سکندر حنفی کے بھائی افراز گل نے سٹی اسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے اور حکومت اور انتظامیہ کی نا اہلی کا واضح ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابقہ اور موجودہ حکومت سے نلتر پائین میں رینجرز اور گلگت بلتستان سکاؤٹس کی چوکی قائم کرنے کی مقامی لوگوں نے کئی بار درخواست کی تھی لیکن اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی نلتر پائین میں نلتر بالا کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا چکا ہے اسی لئے اہل علاقہ نے علاقے میں سیکیورٹی کا نظام موثر بنانے کی درخواست کی تھی لیکن انتظامیہ اور نہ ہی صوبائی حکومت نےاس کا نوٹس لیا جس کے نتیجے میں آج یہ سانحہ رونما ہوا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرے بھائی سکندر حنفی کی جان کو خطرہ لاحق تھا اور ہم اسے احتیاط کا مشورہ بھی دے رہے تھے لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

مزید پڑھیں: گلگت: پولیس اور دہشت گردوں میں فائرنگ،حملہ آور ہلاک

اس واقعے کے بعد صوبائی دارالحکومت گلگت شہر سمیت دیگر اضلاع میں حالات کشیدہ ہوگئے اور حکومت متحرک ہو گئی ہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے امن و امان کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کیا ہے۔ انہوں نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے  سانحے کے محرکات اور کرداروں کو قانون کے شکنجے میں لانے کے لیے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت بھی کی ہے۔

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی اور تعزیت بھی کی ہے۔

دوسری جانب  نلتر اور گلگت کے عوام نے واقعے کے خلاف وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ کے باہر احتجاج کیا اور دہشت گردوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

ہم نیوز کے مطابق فائرنگ کی اطلاع ملتے ہی علاقہ پولیس اور امدادی اداروں کے رضاکار فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچے۔ علاقہ انتظامیہ، پولیس اور امدادی اداروں کے رضا کاروں نے 7 زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔

گلگت: سرکاری گاڑیوں، محکمہ جنگلات کے دفتر کو آگ لگادی گئی

ہم نیوز کے مطابق افسوسناک سانحے کے بعد علاقہ پولیس کی بھاری نفری نے جائے وقوع پہ پہنچ کر ثبوت و شواہد اکھٹے کیے ہیں اور داخلی و خارجی راستوں کی ناکہ بندی بھی کردی ہے۔

فائرنگ کے سانحے میں جاں بحق و زخمی ہونے والے افراد کی تاحال شناخت نہیں کی جا سکی ہے۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مسلح ملزمان کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن بھی شروع کردیا ہے۔

ہم نیوز کے مطابق ایس ایس پی گلگت کا کہنا ہے کہ پیش آنے والے افسوسناک سانحے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

گلگت بلتستان: ملک کا پہلا کورونا فری صوبہ بن گیا

ایس ایس پی گلگت نے بھی سانحے میں 6 افراد کے جاں بحق اور 7 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

 

 

متعلقہ خبریں