اپوزیشن والے نہیں صرف پیپلز پارٹی حکومت کی مخالفت کر رہی ہے، بلاول

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ صرف پیپلزپارٹی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی مخالفت کررہی ہے، ہمارے باقی دوست تو اپوزیشن سے ہی اپوزیشن کررہے ہیں،اس کا فائدہ عمران خان کو ہو رہا ہے۔

خیرپور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کسی لڑائی میں نہیں پڑنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں مل کرکام کریں۔ اگر اپوزیشن جماعتیں مل کر حکومت کی مخالفت نہیں کریں گی تو عمران خان کو فائدہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آپس میں لڑنے کے بجائے حکومت کونشانہ بنائیں تو ہم کامیاب ہوں گے۔ اپوزیشن کی کچھ جماعتیں یہ تاثر دے رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی نے ڈیل کی ہے۔اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے۔ گریز کررہا ہوں جواب دینا اچھے سے آتا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ چھوٹے ایشوز کے بجائے حکومت مخالف تحریک پر توجہ دینی چاہیے۔ پارلیمانی سیاست کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر سے رابطہ رکھنا پڑے گا۔  پیپلزپارٹی کبھی ڈیل کی سیاست نہیں کرتی۔ سمجھتا نہیں ہوں کہ کسی کو منانے کی ضرورت ہوگی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک مومنٹ (پی ڈی ایم) اداروں کی سیاست میں مداخلت کیخلاف بنائی گئی تھی. سربراہ پی ڈی ایم پر اہم ذمہ داری ہے کہ وہ سب کو جوڑ کر رکھیں کسی ایک کا ساتھ نہ دیں. امید ہے مولانا فضل الرحمان اپوزیشن اتحاد کو نقصان نہیں پہنچانے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ لوگوں کو لگ رہا ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی کامیابی ن لیگ کے دوستوں کو ہضم نہیں ہورہی ہے۔ ہر موقع پر آر یاپار کی سیاست نہیں چلتی۔ چھوٹے موٹے اختلاف کی وجہ سے بڑے فائدے کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ سینیٹ کے اجلاس کی وجہ سے سی ای سی کا اجلاس موخر کیا گیا۔

مزید پڑھیں: باہر نہیں جاؤنگی، یہیں رہ کر حکومت کا علاج کرونگی: مریم نواز

بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کے پاس عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ گزشتہ 3 سال سے حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ناکامی کا سامنا ہے۔ پاکستان کی معاشی ترقی رکی ہوئی ہے۔ پاکستان مہنگائی کی شرح میں دیگر ممالک سے آگے ہے۔ غربت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے لیکن حکومت کے پاس اس کا کوئی حل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایم ایف کی ڈیل سے پاکستان نے معاشی خودمختاری کھودی ہے۔ پاکستان معاشی ترقی میں افغانستان،بنگلادیش سے پیچھے ہے۔ پاکستان میں مہنگائی بنگلادیش اور افغانستان سے زیادہ ہے۔ کون سی حکومتی ٹیم تھی جس نے 100 روز میں مسائل حل کرنا تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل کی پہلے روز سے مخالفت کی۔ پی ٹی آئی ایم ایف ڈیل سےغریب عوام کو تکلیف پہنچے گی۔ موجودہ دور میں ریلیف صرف امیروں کیلئے ہے۔ اسٹیٹ بینک سےمتعلق آرڈیننس کی ہرفورم پرمخالفت کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی ترقی میں افغانستان اور بنگلادیش سے پیچھے ہے۔ پاکستان میں مہنگائی بنگلادیش اور افغانستان سے زیادہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پورے پاکستان کے لیےایک پالیسی ہونی چاہیے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وزیراعظم میں وہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ معیشت چلائیں۔ کہا تھا عثمان بزدار کیخلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ،کٹھ پتلی نظام ختم ہوجائیگا۔ پنجاب اور وفاق میں حکومت کی اپوزیشن پیپلزپارٹی کر رہی ہے۔۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ اپوزیشن کی باقی جماعتیں اپوزیشن کی اپوزیشن کررہی ہیں۔ اختلافات ایک طرف رکھ کر حکومت کیخلاف متحد ہونا چاہیے۔ عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو سب کا نقصان ہوگا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں اور حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔ مسلط وزیراعظم میں صلاحیت نہیں کہ ملک چلاسکے۔ آج تک عمران خان نے پارلیمان کو استعمال ہی نہیں کیا۔ حکومت کا فرض تھا کہ کسانوں کے مسائل حل کرے۔ کسان خوشحال ہوگا تو پاکستان خوشحال ہوگا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز