بھارت: ماؤ نواز باغیوں کا حملہ، 22 فوجی ہلاک، 32زخمی،کئی لاپتہ

بھارت: ماؤ نواز باغیوں کا حملہ،22 فوجی ہلاک،32زخمی،کئی لاپتہ

چھتیس گڑھ: بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے حملوں میں 22 فوجی اہلکار ہلاک اور کم از کم 32 زخمی ہوگئے ہیں جب کہ کئی تاحال لاپتہ ہیں۔

مودی سرکار کا مقبوضہ کشمیر میں ایک اور غیر قانونی اقدام

بھارتی ذرائع ابلاغ  کے مطابق ریاست چھتیس گڑھ میں ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں 22 فوجی اہلکار ہلاک اور 32 زخمی ہوئے ہیں جب کہ کئی تاحال لاپتہ ہیں۔

حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز کے مزید دستے جوناگوڑا گاؤں پہنچ گئے ہیں جب کہ زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ لاپتہ فوجیوں کی تعداد کتنی ہے؟

ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ آپریشن باغیوں کے سرگرم رکن مادوی ہڈما کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر شروع کیا گیا تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ روز باغیوں اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جو چار گھنٹے سے زائد عرصے تک جاری رہا تھا۔

آپریشن کے دوران 2000 کے قریب اہلکاروں نے حصہ لیا مگر جیسے ہی بھارتی اہلکاروں نے جنگل میں داخل ہونے کی کوشش کی تو ماؤ باغیو نے پوری قوت سے حملہ کردیا۔

بھارتی ذرائع ابلاغ نے سرکاری ذرائع سے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن میں ماؤ باغیوں کا بھی شدید جانی نقصان ہوا ہے مگر تاحال جائے وقوع سے ایک خاتون کی نعش برآمد ہوئی ہے جو بھارتی حکام کے دعووؤں کی نفی کرتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق مقامی پولیس حکام نے تسلیم کیا ہے کہ ماؤنواز باغیوں کے ساتھ لڑائی میں ہلاک ہونے والے سرکاری سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھ کر22 تک پہنچ گئی ہے۔

چھتیس گڑھ کے نائب سربراہ وزیر تمردواج ساہو نے اخبار نویسوں سے بات چیت میں کہا ہے کہ ہفتے کے روز یہ لڑائی تین گھنٹوں سے زائد عرصے تک جاری رہی تھی۔

مقامی پولیس کے مطابق انہیں خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ بیجاپور میں ماؤنواز باغیوں کا ایک اجلاس ہو رہا ہے جس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پولیس کمانڈوز اور پیرا ملٹری فورسز پر مشتمل ٹیمیں روانہ کی گئی تھیں۔

سردار پٹیل اسٹیڈیم کا نام مودی سے منسوب کرنے پر کانگریس آگ بگولہ

ذرائع ابلاغ کے مطابق آپریشن میں دو درجن سے زیادہ اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے۔

ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس چھتیس گڑھ او پی پال کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز پانچ اہلکاروں کی نعشیں ملی تھیں جب کہ دو درجن زخمی اہلکاروں کو بچا لیا گیا تھا۔

انہوں نے بتایا ہے کہ ہفتے اوراتوار کی درمیانی شب مزید 17 اہلکاروں کی نعشیں ملی ہیں جب کہ متعدد لاپتہ سکیورٹی اہلکاروں کی تلاش تاحال جاری ہے۔

او پی پال کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے اہلکاروں کی تعداد کتنی ہے؟ جس مقام پر لڑائی ہوئی ہے وہاں سے دو باغیوں اور ایک خاتون کی نعش ملنے کا بتایا گیا ہے۔

بھارت کے جن زخمی اہلکاروں کی حالت تشویش ناک ہے انہیں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے  رائے پور کے اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

بھارت میں بائیں بازو کا گوریلا گروپ مرکزی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور انہوں نے اپنے حقوق کے لیے مسلح تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔

ساؤتھ ایشیا ٹیررازم پورٹل کے مطابق چھتیس گڑھ ریاست ماؤنواز باغیوں کا گڑھ تصور کی جاتی ہے اور وہاں گزشتہ دوعشروں کے دوران 33 سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں باغی، سکیورٹی اہلکار اورعام شہری شامل ہیں۔

بھارتی حکومت نے ماؤ باغیوں کو داخلی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے رکھا ہے۔

مودی سرکارکےدورمیں ہونے والی جنگوں میں شدت آئی ہے جس کا اندازہ اس بات سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ سال 2000 سے اب تک 12 ہزارسے زائدافراد ہونے والی ان جنگوں میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے 2 ہزار 700 سے زائد بھارتی فوجی تھے۔

ہٹلر اور نازی کے پیروکار مودی اور آر ایس ایس

ماؤ نواز باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ زمین، ملازمتوں اور غریب قبائلی گروپوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

عالمی مبصرین کے مطابق خلفشار اور انتشار کا دراصل دوسرا نام مودی سرکار ہے جو ہندوؤں کے علاہ تمام اقلیتوں کے نہ صرف حقوق پامال کر رہی ہے بلکہ ان کی شناخت بھی چھیننے کے در پے ہے جس کی وجہ سے بھارت میں علیحدگی پسند تنظیمیں مضبو سے مضبوط تر ہو رہی ہیں۔

اقسوسناک امر ہے کہ بھارت میں برسرا قتدار انتہا پسند ہندوؤں کی نمائندہ جماعت بی جے پی کی جانب سے وزریراعظم کے منصب کے لیے چنے والے نریندر مودی بھی سیاسی عمل کے ذریعے ناراض اقلیتوں کو منانے کے بجائے اندھا دھند طاقت کے استعمال کا راستہ اپنا رہے ہیں جو دراصل آر ایس ایس کا نظریہ وعقیدہ ہے جس کی وجہ سے اندرون ملک بدترین تفریق پیدا ہور ہی ہے اور نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں۔

دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی کے باوجود بھارت اندورون ملک چلنے والی آزادی کی تحاریک کو کمزور نہیں کرسکا ہے بلکہ حکومتی پالیسیاں انہیں تسلسل کے ساتھ بڑھا وا دینے کا سبب بن رہی ہیں۔

بہتان تراشی و الزام تراشی کی عادی بھارتی حکومت ماضی میں پلوامہ ڈرامہ بھی رچا چکی ہے جس کی وجہ سے پوری دنیا میں اس کی سبکی ہوئی تھی مگر تاحال وہ اپنی فطرت سے مجبور ہو کر روز ایک نیا ڈرامہ شروع کردیتی ہے جس کے بعد منہ کی کھانی پڑتی ہے۔

عالمی ذرائع ابلاغ کےمطابق اعداد و شمار کے تحت بھارت کی نصف ریاستوں کے 60 اضلاع میں علیحدگی کی تحاریک جاری ہیں اور انہیں کمزور کرنے کی تمام کوششیں ابھی تک ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔

بھارتی ہیرو مودی سرکار کی کٹھ پتلیاں ؟

سیاسی مبصرین کے مطابق خطے کی سلامتی و استحکام اور امن کے لیے ضروری ہے کہ بھارت پڑوسیوں کے حقوق غصب کرنے اوران چڑھائی کرنے کے بجائے اندرون ملک اپنے داخلی امور کو بہتر بنائے وگرنہ ماؤ باغیوں اور کسان تحریک سمیت دیگر مختلف تحاریک جو لاوے کی شکل اختیار کرچکی ہیں کسی بھی دن پھٹ کر اس کے اپنے وجود کو ریزہ ریزہ کردیں گی۔

متعلقہ خبریں