جاوید میانداد کے چھکے کی پوری کہانی توصیف احمد کی زبانی

شارجہ کے میدان میں ایشیا کپ کے دوران بھارت کیخلاف آخری گیند پر لگائے گئے جاویدمیاں داد کے چھکے کو آج 35 برس بیت گئے لیکن اس کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔

جاویدمیاں داد کے ساتھ سابق ٹیسٹ کرکٹرتوصیف احمد کریز پر موجود تھے اور انہوں نے ایک رنز لے کر جاویدمیاں داد کو آخری گیند کھیلنے کا موقع دیا تھا۔

ایک انٹرویو میں توصیف احمد نے شارجہ کے یادگار چھکے کے کہانی سناتے ہوئے بتایا کہ اس ایک رن نے میری دیگر کارکردگیوں سے زیادہ مجھے شہرت دی۔

انہوں نے بتایا کہ میں ذوالقرنین سے پہلے بیٹنگ کرنے جارہا تھا جس کا مطلب تھا کہ مجھے دو گیندیں کھیلنے کو ملتیں۔ میں پیڈ پہن کر ڈریسنگ روم میں بیٹھا تھا کہ رمیز راجہ نے عمران خان کو آواز دی اور بتایا کہ ذوالقرنین اپنے کلب میں بڑے چھکے مارتا ہے۔

جس پر عمران خان نے انہیں فوری پیڈ کرنے کا حکم دیا اور میں نے اسے پیڈ کرا کے سانس لی اور کہا شکر ہے میرے سے دباو ہٹا۔ مگر وہ پریشر صرف ایک لمحے کے لیے ہی ہٹا کیونکہ ذوالقرنین جلد ہی آوٹ ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب میں گراونڈ میں اترا تو بہت شور تھا، اس وقت جاوید بھائی امپائر سے بات جیت کر رہے تھے۔ اتنا شور تھا کہ میں اُن کے برابر سے ہوتا ہوا اسٹرائیکر اینڈ کی طرف جارہا تھا مجھے نہیں پتہ جاوید بھائی آواز دے رہے ہیں۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ شور بہت تھا کان میں ایسے آواز آئی جیسے کچھ ہوا میں نے مڑکر دیکھا یار میں آواز دے رہا ہوں تم سن ہی نہیں رہے ہو تو میں نے کہا جاوید بھائی اتنے شور میں آواز نہیں آئی۔

انہوں نے بتایا کہ جاوید میانداد نے انہیں کہا کہیں بھی گیند لگے تم بس رنز کے لئے نکل آنا۔

ان کا کہنا تھا کہ چیتن شرما بولنگ کر رہا تھا کہ مجھے لگا کہ وہ باونسر یا آف سائیڈ پر گیند کرائے گا مگر اس نے مڈل میں گیند کرا دی۔

انہوں نے بتایا کہ میرے پاس منظور الہی کا بیٹ تھا جس پر گیند لگی اور تیزی سے بھارت کے تیز ترین فیلڈر محمد اظہر الدین کے پاس چلے گئی۔

کپتان نے ٹیم کو نہیں بلکہ ٹیم نے کپتان کو جتوانا ہے، جاوید میانداد

ان کا کہنا تھا کہ میں رنز لینے کے لیے بھاگا تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میرے پیر کیچڑ میں پھنس گئے ہوں، اظہر نے گیند وکٹ کی جانب پھینکی تاہم وہ نہ لگی اور ہم نے ایک رن مکمل کر لیا۔

توصیف احمد نے بتایا کہ میں رن مکمل کرتے ہوئے کافی آگے نکل آیا میں نے مکا بنا کر اشارہ کیا کہ میں پہنچ گیا ہوں ۔ میں نے اپنا کام تو پورا کردیا تھا اب سارا میچ جاوید بھائی پہ پڑا تھا۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مجھے یقین نہیں تھا کہ ہم میچ جیت جائیں گے، مگر جاوید میانداد جیسا عظیم بلے باز جس سے کوئی اور ٹیم ڈرتی ہو یا نہیں ہو بھارت کی ٹیم ضرور ڈرتی تھی کیونکہ وہ نہ صرف اپنے بلے کے زور سے انہیں دبا کر رکھتے تھے بلکہ اپنی باتوں سے بھی انہیں کافی تنگ کئے رکھتے تھے جس سے ان کے حوصلے بالکل پست ہو جاتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کو جیت کیلیے 4رنز درکار تھے، اس وقت دائرے کی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے فیلڈرز بائونڈری کے قریب اور چوکا مشکل نظر آرہا تھا، چیتن شرما نے یارکر کرنا چاہی لیکن جاوید میانداد نے اسے فل ٹاس بناتے ہوئے چھکا جڑ دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس چھکے کے بعد سے بھارتی ٹیم تنزلی کا شکار ہو گئی اور وہ ہم سے مسلسل کئی سال تک میچز ہارتی چلی گئی۔

توصیف احمد نے چھکے سے متعلق اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 35 سال ہوگئے ہیں میں روڈ پہ نکلتا ہوں لوگ مجھے روک کر پوچھتے ہیں یار آپ نے وہ کیا رن بنایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ  مجھے خوشی ہے میں اُس ٹیم کا حصہ تھا جہاں گریٹ پلیئرز عمران خان مدثر نظر جاوید میانداد جیسے بیٹس مین موجود تھے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز