ادویات: قیمتوں میں کمی کیلیے ڈریپ کا صوبوں کو خط، ڈاکٹروں کیلیے تجویز

ادویات کی قیمتوں میں تین سالوں کے دوران تسلسل کے ساتھ اضافہ

فائل فوٹو


اسلام آباد: پاکستان ڈرگ ریکگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے صوبائی حکومتوں کو خط لکھ کر کہا ہے کہ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ڈاکٹر برانڈڈ ادویات کا نام لکھنے کے بجائے دوا کا فاومولہ تجویز کیا کریں۔

60 سال سے زائد عمر کے افراد چینی اور روسی ویکسین لگواسکتے ہیں، ڈریپ

خلیجی اخبار کے مطابق پاکستان ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے یہ خط وزیر اعظم ڈیلیوری یونٹ کی ہدایت پر لکھا ہے۔

اخبار کے مطابق ڈائریکٹر فارمیسی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ڈاکٹر عبدالرشید کی جانب سے لکھے گئے خط میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور کشمیر کے سیکریٹریز صحت اورچیف کمشنر اسلام آباد ے کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر کسی برانڈڈ ادویہ کا نام تجویز کرنے کے بجائے عام فارمولہ تجویز کریں۔

خط کے متن کے مطابق وزیراعظم کے سٹیزن پورٹل پر شہریوں نے شکایت کی ہے کہ سرکاری اور نجی اسپتال کمپنیوں کی مہنگی ادویات تجویز کرتے ہیں۔

پی ایم اے: ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش

خط میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کے اس عمل سے ملک کے معاشی بوجھ میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ مریضوں کو مہنگے برانڈ کی ادویات خریدنے کی وجہ سے مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو میڈیکل اینڈ ڈینٹل پریکٹشنرز کے ضابطہ اخلاق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اردو نیوز کے مطابق خط میں صوبائی حکومتوں کو ایسے اقدامات کرنے کا کہا گیا ہے جس سے ڈاکٹرز کسی مفاد پر مبنی برانڈ کی ادویات تجویز کرنے کے بجائے عام فارمولہ تجویز کریں تاکہ ملک میں غریبوں کا بھلا ہو۔

ڈرگ لائرز فورم کے صدر اور فارماسسٹ نور مہر نے اس ضمن میں اخبار سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ہدایات میں واضح ہے کہ ڈاکٹرز فارمولہ تجویز کریں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس سے ادویات کی قیمتوں میں 20 سے 50 فیصد کمی آئے گی۔

حکومت نے 94 ادویات کی قیمتوں میں 9 تا 262 فیصد تک اضافہ کی منظوری دیدی

انھوں نے کہا کہ پاکستان پریکٹشنر ایکٹ اور ضابطہ اخلاق کے تحت ڈاکٹرز کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ فارماسوٹیکل کمپنیوں سے کسی قسم کی مراعات لے کر ان کی ادویات تجویز نہیں کریں گے۔

اخبار کے مطابق ڈاکٹرز ان کمپنیوں سے کئی طرح کی مراعات لیتے ہیں جن میں گاڑی، اے سی، فریج اور دیگر مراعات شامل ہیں لیکن جب وہ یہ مراعات نہیں لیں گے توغریبوں کے لیے سستی اور معیاری ادویات لکھیں گے۔

نور مہر کے مطابق دل کی بیماری کے لیے ایک دوائی 460 روپے جب کہ دوسری اچھی اور معیاری دوائی 49 روپے کی بھی مل رہی ہے۔

ڈاکٹر مریض کش پالیسی کے تحت مہنگی ادویات تجویز کرتے ہیں۔ اسی طرح کینسر کے لیے عام ادویات بالکل بھی مہنگی نہیں ہیں لیکن ڈاکٹرز مہنگے برانڈ  کی ادویات تجویز کرتے ہیں۔

وفاقی کابینہ: جان بچانیوالی 94 ادویات کی قیمتیں بڑھانے کی منظوری

انھوں نے وزیراعظم اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے خط کی روشنی میں آج کی تاریخ سے ہی ڈاکٹرز کوعام فارمولہ تجویز کرنے کا پابند بنائیں۔

اخبار کے مطابق ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر فضل ربی نے بھی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے اس اقدام کو سراہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ادویات کی منظوری دیتے وقت معیار پر سمجھوتہ نہ کرے۔

انھوں نے کہا کہ ڈریپ نے ایسی ایسی ادویات کی منظوری دے رکھی ہے کہ اگر بطور ڈاکٹر مجھے خود ان میں سے کوئی دوائی کھانی پڑ جائے تو میرے لیے مشکل ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ میں خود فارمولہ ہی لکھتا ہوں لیکن جب مجھے معلوم ہو کہ اس فارمولے میں سستی دوائی وارسک روڈ کے جس کارخانے میں بنی ہے اس کا معیار اس قابل نہیں ہے کہ مریض کو استعمال کروائی جائے تو پھر بعض اوقات نام لکھنا پڑ جاتا ہے۔

ادویات کی قیمتوں میں اضافہ: پی ٹی آئی کے اراکین اپنی ہی جماعت پر برس پڑے

ڈاکٹر فضل ربی نے کہا کہ ڈریپ میں ادویات کی منظوری کا طریقہ کار اور معیار سخت کیا جائے اور ایک ہی فارمولے کی ادویات کی قیمت بھی یکساں مقرر کی جائیں تو اس سے مریضوں کو زیادہ فائدہ ہوگا۔


متعلقہ خبریں