فائزر کی کورونا ویکسین سے اربوں ڈالر کی کمائی

سری لنکا نے فائزر ویکسین کی استعمال کی منظوری دےدی

عالمی وبا کورونا وائرس نے ایک جانب دنیا کی معشتوں ہلا کر رکھ دیا ہے اور غریبوں کی جیبوں پر آئے روز بھاری پڑ رہا ہے تو دوسری طرف امریکی دوا ساز کمپنی فائزر نے کورونا ویکسین سے اربوں ڈالر کمالیے ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق فائزر نے کورونا ویکسن سے اس سال کی پہلی سہہ ماہی میں ساڑھے تین ارب ڈالر سے زائد کا منافع کمایا ہے جس میں سے کمپنی کا کل منافع 900 ملین ڈالر ہے۔

فائزر کی یہ کمائی دوسری دواساز اور کورونا ویکسین بنانے والی کمپنیوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق کورونا ویکسین کے فروخت سے کمائی فائزر کی آمد کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا ہے، تاہم کمپنی نے اس منافع کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے۔

کورونا وبا کے آغاز میں ہمیں متنبہ کیا گیا تھا کہ کسی ویکسین کو تیار کرنے میں سالوں کی مدت لگ سکتی ہے لہٰذا اس کی بہت جلد توقع نہ رکھیں۔ لیکن صرف دس مہینوں کی مدت میں انجیکشن تیار کرلیا گیا۔ ان میں سے کم از کم دو دوا ساز کمپنیاں امریکی بائیو ٹیکنالوجی کمپنی موڈرنا اور امریکی کمپنی فائزرنے اربوں ڈالر کمالیے ہیں۔

امریکی کمپنی فائز کی تیار کردہ ویکسین کے بارے میں پہلے سے کچھ ایسے نتائج حاصل ہوئے ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہ برطانیہ میں موجود کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف کام کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکا میں 10 کروڑ سے زائد افراد کو کورونا ویکسین لگا دی گئی

لیکن اس کمپنی کی ویکسین غیر متناسب طور پر امیر ممالک یا لوگوں کو ہی میسر ہے جبکہ اس کے چیف ایگزیکٹو نے دعویٰ کیا تھا کہ کمپنی کی تیار کردہ ویکسین سستے دام غریب ممالک کو فراہم کی جائے گی۔

اپریل کے وسط تک  دولت مند ممالک نے فائزر کی تیار کردہ ویکسین لا 87 فیصد سے زائد ڈوز حاصل کرلیا ہے جبکہ غریب ممالک کو اس صرف 0.2 فیصد حصہ ابھی تک ملا ہے۔

دنیا کے امیر ممالک میں تقریبا 4 میں سے 1 فرد کو کورونا ویکسین لگ چکی ہے اور غریب ممالک میں یہ تناسب 500 افراد میں سے صرف ایک فرد کو دستیاب ہے۔

سائنس سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کرنے والی کمپنی ایئرفینیٹی کے مطابق کورونا ویکسین کی تیاری میں عالمی حکومتوں نے مجموعی طور پر  ساڑھے چھ ارب پاؤنڈ کی رقم لگائی ہے جبکہ غیر منافع بخش تنظیموں نے تقریباً ڈیڑھ ارب پاؤنڈ کا عطیہ دیا ہے۔

دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے صرف دو ارب 60 کروڑ پاؤنڈ کی سرمایہ کاری ہوئی جبکہ زیادہ سے زیادہ بیرونی فنڈنگ پر اکتفا کیا گیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق فائزر کی تیار کردہ ویکیسن کو پہلی ہی برطانیہ میں لگانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔ برطانیہ میں 6.3 ملین سے زیادہ افراد کو پہلے ہی یا تو فائزر یا آسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی خوراک لگائی جا چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز