سیشن کورٹس کو ریپ کیسز سننے کا اختیار مل گیا

سیشن کورٹس کو ریپ کے کیسز سننے کا اختیار مل گیا

فوٹو: فائل

صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انسداد عصمت دری (اینٹی ریپ) آرڈیننس کے تحت سیشن کورٹس کو ریپ کے کیسز سننے کا اختیاردیدیا ہے۔

صدارتی آرڈیننس کے تحت ملک بھر میں اسپیشل کورٹس کے قیام تک ریپ کیسز سیشن کورٹس میں سنے جائیں گے۔

صدر مملکت عارف علوی نے چیف جسٹس کی مشاورت سے اختیار سیشن ججز کو تفویض کیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے انسداد عصمت دری آرڈیننس 2020 کی منظوری دی تھی۔

آرڈیننس کے تحت اسپیشل کورٹس کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس کے تحت عورتوں اور بچوں کے خلاف زیادتی کے معاملات کو جلد نمٹانے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: زیادتی کے واقعات: ملزمان کے ٹرائل کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی

آرڈیننس کے تحت  زیادتی کے ملزمان کے تیز ٹرائل اور کیسز جلد از جلد نمٹانے کیلئے ملک بھر میں خصوصی عالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، خصوصی عدالتیں 4 ماہ کے اندر زیادتی کے کیسز کو نمٹائیں گی۔

آرڈیننس کے تحت وزیرِاعظم انسدادِ زیادتی کرائسس سیلز کا قیام عمل میں لائیں گے، یہ سیل چھ گھنٹے کے اندر اندر متاثرہ افراد کا میڈیکل معائنہ کرانے کا مجاز ہوگا جبکہ نادرا کی مدد سے قومی سطح پر جنسی زیادتی کے مجرمان کا رجسٹر تیار کیا جائے گا۔

انسداد عصمت دری آرڈیننس کے تحت زیادتی کے متاثرین کی شناخت ظاہر کرنے پر پابندی لگاتے ہوئے اس عمل کو قابلِ سزا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

آرڈیننس کے تحت تحقیقات میں کوتاہی برتنے پر پولیس وسرکاری ملازم کو تین سال سزا اور جرمانہ ہوگا جبکہ غلط معلومات فراہم کرنے والے پولیس اور سرکاری ملازم کو سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

نوٹیفائیڈ بورڈ کے ذریعے مجرم کو کیمیکل یا ادویات کے ذریعے نامرد بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں