شہباز شریف کو مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف  کو مشروط طور پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی۔

ہم نیوز کے مطابق جسٹس علی باقر نجفی نے شہباز شریف کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ شہباز شریف 8 ہفتوں کے بعد پاکستان واپس آنے کے پابند ہوں گے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے تفصیلی رپورٹ اور جواب طلب کر لیا ہے۔

اس سے پہلے کیس کی سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے شہباز شریف کی درخواست پر اعتراض اٹھایا کہ شہباز شریف نے درخواست میں ہیں لکھاکہ ایمرجنسی میں جانا ہے۔ کہتے ہیں کہ 20 مئی کو ڈاکٹر سے اپوائنٹمنٹ ہے۔

یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ قطر میں 10 دن قرنطینہ کریں؟ قرنطینہ کم سے کم 14 دن کے لیے ہوتا ہے۔ شہبازشریف اگر پہلے قطر جاتے ہیں اور پھر برطانیہ تو 20 مئی تک کیسے معائنہ کراسکتے ہیں؟

عدالت نے سرکاری وکیل سے سوال کیا آپ بتائیں کہ شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ میں ہے یا نہیں؟ ایک ایسا شخص جس کی ضمانت ہو چکی ہے اور ای سی ایل میں نام بھی نہیں ہے۔ شہباز شریف اپوزیشن لیڈر ہیں اور پہلے دو مرتبہ جا کر واپس آچکے ہیں۔

جج نے استفسار کہا آپ کے کیا تحفظات ہیں کیا شہبازشریف واپس نہیں آئیں گے؟

ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف بلیک لسٹ سے نام نکلنے پر کل ہی لندن روانہ ہو جائیں گے۔

مستند ذرائع نے ہم نیوز کو بتایا کہ شہباز شریف نے اپنے کینسر اور کمر کے ڈاکٹرز سے وقت لے رکھا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ  اگر عدالت نے اجازت دی تو پیر کو میری چیک اپ کے لیے اپوائنٹمنٹ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے اپنا نام بلیک لسٹ سے نکلوانے کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہبازشریف کی جانب سے علاج کی غرض سے بیرون ملک جانے کے لیے عدالت میں پٹیشن دائر کی تھی۔ درخواست میں وفاقی حکومت، وزارت داخلہ اور ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا تھا۔

شہباز شریف کی جانب سے سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور امجد پرویز نے لاہور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی۔ جس میں استدعا کی گئی گئی ہے کہ ان کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جائے۔

درخواست میں شہباز شریف کی جانب سے کہا گیا تھا کہ مجھے آشیانہ اقبال ریفرنس، رمضان شوگر ملز ریفرنس میں عدالت سے ضمانت ملی، جس کے بعد بیرون ملک گیا اور پھر وطن واپس بھی آگیا۔

یہ بھی پڑھیں: 30 سال حکومت کرنے والے حساب دینے کو تیار نہیں، وزیر اعظم

درخواست گزار کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے نام بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا ہے اور نام بلیک لسٹ میں شامل کرنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ وفاقی حکومت کو درخواست گزار کا نام بلیک لسٹ سےنکالنے کا حکم دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز