افغانستان سے انخلا: امریکہ نے فوجیوں کی حفاظت کیلئے جنگی طیارے تعینات کردیے

امریکی اور نیٹو افواج کے سپاہیوں کے افغانستان سے انخلا کے دوران فضائی مدد فراہم کرنے اور  حفاظت کے  امریکہ نے جنگی طیارے تعینات کردیے ہیں۔

بھاری بمبار اور لڑاکا طیارے امریکی اور نیٹو افواج اور سویلین ٹھیکیداروں کی حفاظت کے لیے تعینات کردیے گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین مارک میلے نے کہا کی چھ بی-52 لانگ رینج اور 12 ایف 18 جنگی طیاروں کو 2500 امریکی افواج اور 16،000 سویلین ٹھیکیداروں کی افغانستان سے روانگی کے دوران حفاظت کے لیے تعینات کردیے گئے ہیں۔

جنرل ملی نے مزید کہا  طالبان افغان حکومت کے اہداف کے خلاف روزانہ 80 سے 120 کے حملے کر رہے ہیں تاہم انہوں نے  یکم مئی سےانخلاء شروع ہونے کے بعد سے امریکی اور اتحادی افواج کے خلاف کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔

امریکی سیکریٹری دفاع لوئیڈ آسٹن نے کہا کہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں منصوبے کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج کی افغانستان سے واپسی کا عمل جاری ہے۔

امریکہ اور نیٹو کی فوجیں تقریبا 20 سال سے افغانستان میں موجودگی تھیں۔

اس سے قبل نائن الیون کی 20ویں برسی پر اپنے خطاب میں امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ امریکی افواج کا افغانستان سے انخلا کا عمل 11 ستمبر تک مکمل ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی اور نیٹو افواج نے افغانستان سے انخلا شروع کردیا

افغانستان سے امریکی اور اتحادی افواج کا انخلاء ملک میں بڑھتے ہوئے حملوں کے درمیان ہوا ہے  جبکہ افغان سکیورٹی فورسز کو طالبان کی جانب سے ممکمہ حملوں کا جواب دینے کے لیے ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

طالبان نے متنبہ کیا ہے کہ وہ اب کسی ایسے معاہدے کے پابند نہیں ہیں جس کے تحت وہ بین الاقوامی فوجیوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

طالبان اورسابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین گذشتہ سال طے پانے والے معاہدے کے تحت غیر ملکی افواج کو یکم مئی تک افغانسان سے نکلنا تھا جب کہ طالبان نے بین الاقوامی افواج پر حملہ نہ کرنے کی یقین دہانی کرادی تھی۔

خیال رہے کہ 11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے حملوں میں قریب 3،000 افراد ہلاک ہوئے تھے اور امریکہ نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

امریکہ نے اس وقت برسر اقتدار طالبان سے اسامہ بن لادن کی حوالگی کا مطالبہ کردیا تھا تاہم طالبان نے انکار کیا تھا۔ چنانچہ نائن الیون کے واقع کے ایک ماہ بعد امریکہ نے افغانستان کے خلاف فضائی حملے کیے تھے۔

اس کے بعد امریکہ کے اتحادی ممالک بھی اس جنگ میں شامل ہوئے تھے اور طالبان کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز