ٹام کروز نے گولڈن گلوب ایوارڈز احتجاجاً واپس کر دیے

ٹام کروز نے گولڈن گلوب ایوارڈز احتجاجاً واپس کر دیے

لاس اینجلس : ہالی وڈ کے ہیرو ٹام کروز نے گولڈن گلوب کمیٹی میں اصلاحات نہ ہونے پر احتجاجاً اپنے ایوارڈز واپس کر دیے. 

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ہالی وڈ کے ہیرو ٹام کروز نے آسکر کے بعد دنیا کے دوسرے معتبر ترین ایوارڈز گولڈن گلوب انتظامیہ کی جانب سے کمیٹی میں اصلاحات نہ کیے جانے کے بعد احتجاجاً اپنے تین ایوارڈز تنظیم کو واپس کردیے۔

ٹام کروز نے واپس کیے گئے ایوارڈز 1990 سے 2000 تک جیتے تھے، انھوں پہلا گولڈن گلوب ایوارڈ 1990 میں دوسرا بہترین اداکار کا ایوارڈ 1997 اور تیسرا بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ اپنی 2000 کی فلم (میگنولیا) پر جیتا تھا۔

دوسری جانب امریکی ٹی وی نیٹ ورک نے بھی اصلاحات نہ ہونے تک گولڈن گلوب ایوارڈز کی آئندہ سال کی تقریب کو ٹی وی پر نشر نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ٹی وی نیٹ ورک کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ گولڈن گلوب ایوارڈز منعقد کرنے والی تنظیم اصلاحات کے لیے پرعزم ہے مگر تنظیم میں اصلاحات میں کافی وقت درکار ہے تاہم جب تک مکمل اصلاحات نہیں ہوتی گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب کو 2022 میں نشر نہیں کیا جائے گا۔

نیٹ ورک کے مطابق مکمل اصلاحات ہونے کے بعد ہی 2023 کے گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب کو نشر کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر 2022 کے گولڈن گلوب ایوارڈز کی تقریب کو بھی تنازع کے بعد ملتوی کیا جائے گا۔

یاد رہے رواں برس فروری میں امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ بعض بڑے پروڈکشن اداروں کے تنظیم سے قریبی تعلقات ایوارڈز کی نامزدگیاں اور ایوارڈز دینے کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ جہاں تنظیم سازی کے معاملات میں جہاں رنگ و نسل کی کمی ہے، وہیں تنظیم میں اخلاقی اور پیشہ ورانہ امتیازی سلوک بھی ہوتا ہے۔

بعد ازاں گولڈن گلوب ایوارڈز منعقد کرنے والی تنظیم ولی وڈ فورین پریس ایسوسی ایشن نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اصلاحات کا اعلان کیا اور کہا کہ نئی اصلاحات کے مطابق اب سیاہ فام افراد کو بھی رکن بنایا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز