کام کے طویل اوقات کارکنوں کی موت کا سبب بن رہے ہیں، ڈبلیو ایچ او

کام کی زیادتی موت کا سبب بنتی ہے، عالمی ادارہ صحت

فائل فوٹو

نیویارک: عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کہا ہے کہ کام کے طویل اوقات دنیا بھر میں کارکنوں کی اموات میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے ایک تازہ ترین مطالعے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال لاکھوں افراد کی اموات کا سبب کام کے طویل اوقات کار بنتے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے اندازوں کے مطابق 2016 میں دنیا بھر میں 3 لاکھ 98 ہزار انسان اسٹروک یا اچانک دماغ کی رگ پھٹ جانے کا شکار ہوئے اور 3 لاکھ 47 ہزار دل کے عارضے میں مبتلا ہوئے۔

کارکنوں کی موت کی وجہ ان کا ہفتہ وار 55 گھنٹوں سے زیادہ کام کرنا بنی۔

ڈبلیو ایچ او اور بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کی طرف سے پہلی بار کارکنوں کے کام کے اوقات کے بارے میں لگایا گیا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: میکسیکو کی آنڈریا میزا مس یونیورس 2021 منتخب

عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ کورونا بحران اس صورتحال میں مزید خرابی کا سبب بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز