چیف جسٹس اور وکیل کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ

سرکاری رہائشگاہوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ: سپریم کورٹ نے رپورٹ طلب کرلی

فائل فوٹو

اسلام آباد: سپریم کورٹ پاکستان میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد اور وکیل کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔

سپریم کورٹ میں خیبر پختونخوا (کے پی) حکومت کی اپیل منظور ہونے کے باوجود وکیل اونچی آواز میں دلائل دیتا رہا، جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ فائل  لے جائیں اور کسی اور سے مقدمے کا فیصلہ کروا لیں۔

وکیل نے کہا کہ ٹھیک ہے عدالت مجھے نہیں سننا چاہتی تو نہ سنے جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت میں ایسی بات نہ کریں۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کو سن لیا ہے اب عدالت آپ کو مزید کتنا سنے ؟

یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے فیصلوں سے 14 ہزار ارب کا قرض بڑھ گیا، مریم اورنگزیب

وکیل نے چیف جسٹس سے استدعا کی کہ کیا میں کچھ گزارش کر سکتا ہوں ؟ جس پر چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے گزارش کر لی ہے اب مزید نہیں سنیں گے۔

واضح رہے کہ محمد شمیم کو استاد کی آسامی کے لیے کے پی محکمہ تعلیم  نے نااہل قرار دیا تھا اور فیصلے کے خلاف رجوع کرنے پر پشاور ہائی کورٹ نے امیدوار کے حق میں فیصلہ سنایا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز