مافیا کو این آر او نہیں دوں گا، قانون کے نیچے لاؤں گا، وزیراعظم

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کا طاقتور مافیا این آر او چاہتا ہے لیکن میں کبھی این آر او نہیں دوں گا۔ پاکستان میں غریب کیلئے جیل اور طاقتور کیلئے این آر او ہے۔ امیراورغریب کے لیے الگ الگ قانون سے پاکستان تباہ ہوا۔ 

پشاور میں کم لاگت فیملی فلیٹس تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سارا مافیا اکٹھا ہوکراین آراو لینے کی کوشش کررہا ہے، مافیا این آراو لینے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ مافیا کو این آراو نہیں دوں گا اور قانون کے نیچےلاؤں گا۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا کبھی کسی جماعت کو دوسری باری نہیں دیتا۔ اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوامیں غربت کم ہوئی۔ ہیومن ڈیولپمنٹ سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں ہوئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ لندن فرار ہونیوالے کہتے تھے کدھر ہے نیا خیبرپختونخوا؟ فرار ہونیوالوں کو واپس لانے میں زیادہ دیرنہیں لگے گی۔ پیسے بچانے کیلئے لندن بھاگنے والے زیادہ دیرنہیں بچیں گے۔ فکر نہ کریں بھگوڑوں کو جلد واپس لائیں گے۔

مزید پڑھیں: پی پی: این آر او کیلیے مارک سیگل کو 60 لاکھ ڈالرز دیے، فرخ حبیب

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے تحریک انصاف کو دوسری بار 2 تہائی اکثریت دی۔ 2013 کے بعد خیبر پختون خوا غربت میں کمی آئی۔ خیبر پختونخوا میں امیر اور غریب کے درمیان فرق ختم ہوا خیبر پختونخوا میں انسانوں پر سرمایہ کاری کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں کسی نے بھی مزدور طبقے کیلئے نہیں سوچا۔ موجودہ حکومت شہریوں کی فلاح وبہبود کیلئے کوشاں ہے۔ مدینہ کی ریاست پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ نعمتیں بخشی تھیں۔ مدینہ کی ریاست میں تاریخ کا سب سے بڑا انقلاب آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بہت بڑے خواب کا نام ہے۔ ہمارے ملک کا مقصد کیا تھا اور کس راستے پر چل پڑے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ  ہمارے 5 سال پورے ہونے پر صحت کا انقلاب آئے گا۔ خیبر پختونخوا کے تمام شہریوں کے پاس ہیلتھ کارڈ موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام آدمی کو گھر بنانے کیلئے اب بینک قرضے دیں گے۔ ایک آدمی جتنا گھر کا کرایہ دیتا ہے اتنی اس کی بینک کی قسط ہونی چاہیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ کورونا وبا کے باوجود مہمند ڈیم پر کام ہورہا ہے۔ 2025 میں مہمند ڈیم مکمل ہوجائے گا۔ پشاور کو مہمند ڈیم سے 300 ملین گیلن پانی ملے گا۔ یہ ڈیم ہمیں آج سے 50 سال پہلے بنانے چاہیے تھے۔ اگر ہم نے ڈیم بنائے ہوتے تو آج سستی بجلی بنا رہے ہوتے۔ مہمند ڈیم 2025 میں مکمل ہوگا۔

متعلقہ خبریں