وزیر تعلیم نے یونیورسٹیوں میں داخلوں کا شیڈول بتادیا

فوٹو: فائل

وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا ہے کہ سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں امتحانات سے پہلے طلبا انجینئرنگ، ایم ڈی کیٹ اور میڈیکل کے انٹری ٹیسٹ دے سکیں گے۔

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اکتوبر اور نومبر میں اے لیول کے امتحان دینے والے طلبا بھی یونیورسٹیوں میں عارضی داخلہ لینے کے اہل ہونگے۔

وزیر تعلیم شفقت محمود نے نے کہا کہ حکومت نے اسکول، کالج اور یونیورسٹیاں سات جون سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے ایجوکیشن سیکٹر کی ویکسی نیشن کرنا چاہتے ہیں۔ صرف ویکسی نیشن کرانے والوں کو امتحان میں نگران بننے کی اجازت ہو گی ۔

خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے 10 جولائی کے بعد صرف دسویں سے بارہویں جماعت کے اختیاری مضامین کے امتحانات لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزارئے تعلیم نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

اجلاس میں میٹرک اورانٹرمیڈیٹ کے امتحانات سے متعلق تجاویز زیر غور آئیں۔

بعد ازاں اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیرتعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے تعلیم کے باہم مشورے سے فیصلے کئے گئے، گزشتہ سال ہم نے کچھ بچے امتحانات کے بغیر پاس کیے تھے، لیکن اس بار فیصلہ ہوا ہے کہ امتحانات دیئے بغیر کسی کو کوئی گریڈ نہیں ملے گا، امتحانات ہر صورت ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ تعلیمی اداروں کو کھولنے یا بند کرنے کے فیصلے آسان نہیں ہوتا، ہمیں بھی ان مشکل حالات میں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔

مزید پڑھیں: ملک بھر میں پیر سے تمام یونیورسٹیاں کھولنے کی اجازت

شفقت محمود نے کہا کہ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے دوران اسکول بند ہونے اور کھلنے کا سلسلہ جاری رہا، جس کی وجہ سے بچوں نے یکسوئی کے ساتھ تعلیم پر توجہ نہیں دی، اور ان کی تعلیم متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ اس بات پر قائم ہیں کہ امتحانات ہر صورت میں ہوں گے، تمام فیصلوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور نہ کوئی دباؤبرداشت کریں گے۔

وزیرتعلیم نے کہا کہ تمام صوبوں کی مشاورت کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ تمام تعلیمی ادارے 7 جون سے کھول دیئے جائیں گے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ 24 جون کے بعد امتحانات لئے جائیں لیکن اب فیصلہ ہوا ہے کہ بچوں کو امتحانات کی تیاری کیلئے وقت دیا جانا چاہیے اور اب 10 جولائی کے بعد دسویں اور بارہویں کے امتحانات ہوں گے اور ان امتحانات کے بعد ہی دیگر امتحانات ہوں گے، جب کہ ہر پیپر میں مناسب وقفہ رکھا جائے گا تا کہ بچے تیاری کر لیں۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ طلباء کی کورس ورک پورا نہ ہونے کی شکایت درست ہے، اس لئے فیصلہ کیا ہے کہ نویں اور دسویں کے طلبا کی آسانی کے لئے صرف اختیاری مضامین اور ریاضی کے پیپر دیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ پریکٹیکل و باقی مضامین کے امتحانات نہیں ہوں گے، جب کہ گیارہویں اور بارہویں کے بھی امتحانات صرف اختیاری مضامین میں لئے جائیں گے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز