ڈہرکی حادثہ: کوچ نمبر 10میں بفرز مسنگ،بولٹ ٹوٹے ہوئے تھے

وزیرریلوے اعظم سواتی نے ڈہرکی حادثے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملت ایکسپریس کی کوچ نمبر 10 میں بفرز مسنگ تھے اور بولٹ بھی ٹوٹے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ڈہرکی ٹرین حادثہ معمولی نہیں تھا۔ اس میں  63افراد جاں بحق ہوئے اور20زیرعلاج ہیں۔ زخمیوں میں 3 کی حالت تشویشناک ہے۔

زخمیوں کے لواحقین کے ساتھ ہمارے افسران موجود ہیں۔ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 15لاکھ روپے دئیے جائیں گے۔ 20 ہزارسے3 لاکھ تک قانون کےمطابق زخمیوں کودیا جاتا ہے۔

حادثے کاشکار ہونے والی ملت ایکسپریس کی بوگیاں پرانی تھیں۔ کوچز 50سال پرانی ہیں۔

ملت ٹرین جب کراچی سے چلی تو بوگیاں ہل رہی تھیں۔ حادثے کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ 3بجکر38منٹ پرملت ایکسپریس کو حادثہ پیش آیا۔ ٹرین کی 12بوگیاں ڈی ریل ہوئیں جوحادثے کی وجہ بنی۔ جب حادثہ ہوا تو جانیں بچانے کابھی موقع نہیں ملا۔ ملت ایکسپریس کی بوگیاں دوسرے ٹریک پر آگئیں۔ اسی دوران دوسری ٹرین بوگیوں سے ٹکرا گئی۔

سرسید ایکسپریس  کے ڈرائیور کو موقع نہیں ملا۔ 8 میل کےٹریک کےاندرکوئی خرابی تھی۔ ٹرین کی رفتار کی حدمقرر کی ہے کیونکہ خطرناک ٹریک ہے۔ واقعے کے بعد زخمیوں کی اسپتال منتقلی کےلیے آرمی ہیلی کاپٹرز موجود تھے۔

اعظم سواتی نے بتایا کہ 2014سےآج تک ریلوے پر کوئی خرچہ نہیں ہوا۔ ریلوے ٹریکس کی صرف مرمت ہوئی ہے۔ سکھر ڈویژن کے ریلوے ٹریکس کوٹھیک نہیں کہوں گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ہرصورت ریلوے کانظام بہتر کرناہوگا، ریلوےٹریک کو اپ گریڈ کرنا ہے اور کوئی راستہ نہیں۔ ریلوےکی اپ گریڈیشن کیلئے 620 ارب روپے چاہئیں۔

 

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز