ویکسینیشن کے بنا: موبائل فون نہیں، شاپنگ نہیں اور ہوٹلنگ بھی نہیں

خیبر پختونخوا کے اضلاع میں کورونا ویکسی نیشن کا عمل رک گیا

لاہور: صوبہ پنجاب میں لازمی ویکسینیشن کے لیے پابندیوں سے متعلق تجاویز تیار کرلی گئی ہیں۔ تجاویز صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں طے کی گئیں۔

این سی او سی کا کاروبار 2 دن کے بجائے ایک دن بند رکھنے کا فیصلہ

ہم نیوز نے اس ضمن میں ذمہ دار ذرائع سے بتایا ہے کہ اجلاس میں ویکسینیشن نہ کرانے والوں کی شاپنگ مالز، ہوٹل میں داخلہ بند کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں ویکسینیشن نہ کرانے والوں کا موبائل سم کارڈ بلاک کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی وزیر صحت یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ لوگوں کی صحت اور زندگیوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے چھٹکارہ ویکسینیشن کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

کورونا ویکسین کی خریداری کیلئے ایک ارب ڈالر کی منظوری

ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ کورونا پر قابو پانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ این سی او سی کی گائیڈ لائنز کے مطابق صوبے بھر میں ویکسینیشن کے ہدف کو ہر صورت پورا کیا جائے گا۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا کہ آبادی کے لحاظ سے ہر ضلع کے لیے روزانہ ویکسینیشن کا ہدف مقرر کردیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب کا کہنا تھا کہ ویکسی نیشن اہداف کے حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ویکسینیشن سے متعلق اضلاع کی کارکردگی کا باقاعدگی سے جائزہ لیا جائے گا۔

تمام سرکاری و نجی ملازمین کیلئے کورونا ویکسین لگوانا لازمی قرار

ہم نیوز نے ذرائع سے بتایا ہے کہ چیف سیکریٹری نے اجلاس میں کم ویکسینیشن والے اضلاع میں ویکسین لگانے کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اہداف پورا نہ کرنے والے اضلاع کے افسران سے باز پرس بھی ہوگی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز