ڈینگی کیسز میں 77 فیصد کمی، نئی تحقیق سامنے آگئی

نئی تحقیق: ڈینگی بخار کے کیسز میں 77 فیصد کمی

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ایک انقلابی تجربے میں ڈینگی بخار کے کیسز میں 77 فیصد کمی کی گئی ہے۔ اس تجربے میں یہ نتائج ڈینگی بخار پھیلانے والے مچھروں میں رد و بدل کر کے حاصل کیے گئے ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق سائنسدانوں نے اس تجربے میں ایسے مچھروں کا استعمال کیا جن کو ایک ‘کرشمائی’ بیکٹریا سے ’انفیکٹ‘ یا متاثر کیا گیا جس سے ان مچھروں کی ڈینگی پھیلانے کی صلاحیت قابل ذکر حد تک کم ہوگئی۔

یہ تجربہ انڈونیشیا کے شہر یوگیکارتا میں کیا گیا اور اب ڈینگی وائرس کو ختم کرنے کی امید کے ساتھ دوسرے علاقوں میں بھی کیا جا رہا ہے۔

مچھروں کے عالمی پروگرام کی ٹیم کا کہنا ہے کہ ڈینگی وائرس کا جو پوری دنیا میں پایا جاتا ہے، اس طریقے سے حل نکالا جا سکتا ہے۔

پچاس سال پہلے شاید لوگوں نے ڈینگی کا نام بھی نہ سنا ہو لیکن یہ وبا مسلسل پھیل رہی ہے اور اس کے مریضوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 1970 کی دہائی تک صرف نو ملک ڈینگی کی وبا کا شکار تھے لیکن اب ہر سال 40 کروڑ سے زیادہ لوگ اس وبا کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔

ڈینگی کو عام طور پر ‘کمر توڑ بخار’ کہا جاتا ہے کیونکہ اس سے پٹھوں اور ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے اور اس کے تیزی سے پھیلنے سے ہسپتال میں گنجائش سے زیادہ مریضوں کا بوجھ بڑھ سکتا ہے۔

میرے دشمن کا دشمن

اس تجربے میں جن مچھروں کا استعمال کیا گیا ان کو والبچا (Wolbachia) نامی بیکٹیریا سے متاثر کیا گیا۔ اس تجربے میں شامل ایک ماہر ڈاکٹر کیٹی انڈرس اسے ‘قدرتی کرشمہ’ کہتی ہیں۔

والبچا بیکٹیریا سے مچھروں کو نقصان نہیں پہنچتا اور یہ مچھروں کے جسم کے ان حصوں میں رہتا ہے جہاں ڈینگی وائرس گھسنے کی کوشش کرتا ہے۔

اس بیکٹیریا اور ڈینگی وائرس میں ایک کشمکش شروع ہو جاتی ہے اور ڈینگی وائرس کو نمو کا موقع نہیں ملتا، لہذا جب مچھر کسی کو کاٹتا ہے تو ڈینگی وائرس کے پھیلنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

اس تجربے میں مچھروں کے ایسے پچاس لاکھ انڈے استعمال کیے گئے جنھیں بیکٹیریا سے متاثر کیا گیا۔ یہ انڈے پانی کی بالٹیوں میں ڈال کر شہر میں رکھ دیے گئے اور ایسا ہر دو ہفتوں بعد کیا جاتا تھا تاکہ بیکٹیریا سے متاثر ہونے والے مچھروں کی تعداد بڑھائی جا سکے اور اس میں نو مہینے لگے۔

یوگیکارتا کو 24 مختلف حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور بیکٹیریا سے متاثرہ مچھروں کو صرف گیارہ حصوں میں چھوڑا گیا۔

نیو انگلینڈ نامی طبی جریدے میں اس تجربے کے شائع ہونے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈینگی کے مریضوں میں 77 فیصد کمی آئی اور ڈینگی جراثیم سے متاثرہ ہو کر ہسپتالوں تک پہنچنے والے مریضوں کی تعداد 86 فیصد کم رہی۔

ڈاکٹر انڈرس نے بی بی سی سے کہا کہ ‘یہ بڑی خوشی کی بات ہے، سچ تو یہ ہے کہ یہ نتائج تو ہماری توقعات سے بھی بہتر رہے۔’

مزید پڑھیں: کراچی میں ڈینگی وائرس سر اٹھانے لگا

یہ طریقہ اس قدر کار گر ثابت ہوا کہ مچھر پورے شہر میں چھوڑے جا رہے ہیں اور اس منصوبے کو آس پاس کے علاقوں میں بھی آزمایا جا رہا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ پورے خطے سے ڈینگی کا خاتمہ کر دیا جائے۔

ڈاکٹر انڈرس جو مچھروں کے عالمی پروگرام کا حصہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ‘یہ نتائج ایک سنگ میل ہے۔’

انہوں نے کہا کہ اس طریقے کے زیادہ بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں اگر اس کو ان بڑے شہروں میں بھی آزمایا جائے جہاں ہر سال ڈینگی صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ پیدا کر دیتا ہے۔

والبچا حیران کن حد تک تبدیل ہونے کی ایسی صلاحیت رکھتا ہے کہ یہ جن مچھروں کو لگایا جاتا ہے ان مچھروں سے ان کے انڈوں اور بچوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک مرتبہ بیکٹیریا ان مچھروں میں چلا جائے تو یہ لمبے عرصے تک ان کے جسموں میں رہ سکتا ہے اور ڈینگی سے لوگوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔

یوگیکارتا میں بیماریوں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے ادارے کی انچارج ڈاکٹر یودیرا ایمیلیا کا کہنا ہے کہ ‘ہم اس تجربے سے بہت خوش ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ یہ یوگیکارتا کے دوسرے حصوں میں بھی آزمایا جائے اور پھر اسے پورے انڈونیشیا تک پھیلا دیا جائے گا۔

بوسٹن یونیورسٹی میں عالمی صحت کے پروفیسر ڈیویڈ ہیمر کا کہنا ہے کہ اس طریقے سے دیگر امراض کے پھیلنے کو بھی روکا جاسکتا ہے جس میں زیکا، زرد بخار اور چیکنگونیا بھی شامل ہیں اور یہ سب بھی مچھروں کے ذریعے ہی پھیلتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز