برطانیہ: ڈیو اسمتھ کا 10ماہ میں مسلسل 43 مرتبہ کورونا ٹیسٹ مثبت

سندھ: کورونا، 24 گھنٹوں میں 44 افراد جاں بحق

لندن: برطانیہ کے ایک 72 سالہ شخص ڈیو اسمتھ کا 10 ماہ تک مسلسل کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے باعث طویل ترین انفیکشن کا ریکارڈ قائم ہو گیا ہے۔

کورونا کے دوران لاکھوں افراد لکھ پتی بن گئے

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانیہ کے شہر برسٹل کے رہائشی ڈیو اسمتھ جو کہ ایک ریٹائرڈ ڈرائیونگ انسٹرکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ ان کا کورونا ٹیسٹ مسلسل 43 مرتبہ مثبت آیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی کو انہوں نے بتایا کہ وہ سات مرتبہ اسپتال میں داخل رہے ہیں اور انہوں نے اپنی آخری رسومات کی تیاری بھی مکمل کر لی تھی۔

ڈیو اسمتھ نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ وہ نا امید ہو چکے تھے جس کے بعد انہوں نے پورے خاندان کو بلایا، ہر ایک سے معافی مانگی اور سب کو الوداع بھی کہہ دیا۔

ڈیو کی اہلیہ لنڈا کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ انہیں بھی یہی خیال آیا  کہ شاید اب وہ صحتیاب نہیں ہو سکیں گے لیکن ہر مرتبہ نا امیدی امید میں بدل گئی۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یونیورسٹی آف برسٹل اور نارتھ برسٹل این ایچ ایس ٹرسٹ کے وبائی امراض کے کنسلٹنٹ ایڈ مورگن کا کہنا ہے کہ ڈیو سمتھ کے جسم میں فعال وائرس موجود تھا۔

کورونا: سالگرہ کی تقاریب کیسز میں پھیلاؤ کا سبب بنتی ہیں؟

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈیو اسمتھ امریکہ کی بائیوٹیک فرم کی تیار کردہ اینٹی باڈیز سے صحت یاب ہوئے تھے۔

پہلے انفیکشن کے 305 روز اور رگن ارون دوا لینے کے بعد ڈیو اسمتھ کا ٹیسٹ منفی آیا تو انہوں نے اپنی اہلیہ لنڈا کے ہمراہ جشن بھی منایا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق ڈیو اسمتھ نے طویل بیماری سے صحت یاب ہونے کے بعد برطانوی نشریاتی ادارے  کو بتایا کہ یہ ایسا تھا جیسے آپ کو آپ کی زندگی واپس مل گئی ہو۔

ڈیو اسمتھ جب مارچ 2020 میں کورونا وائرس کا شکار ہوئے تو اس سے قبل انہیں پھیپھڑوں کا عارضہ لاحق تھا اور وہ حال ہی میں بلڈ کینسر سے صحت یاب بھی ہوئے تھے۔

ڈیلٹا قسم کا کورونا مزید جان لیوا ہوسکتا ہے، عالمی ادارہ صحت

ڈیو اسمتھ نے برطانوی اخبار دی گارڈین کو بتایا کہ صحت یاب ہونے کے بعد بھی ان کی سانس اُکھڑتی ہے لیکن وہ برطانیہ کے مختلف علاقوں کا سفر کرچکے ہیں اور اپنی پوتی کو گاڑی چلانے کی ٹریننگ بھی دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اب سب کچھ ٹھیک ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز