کسی کے دباؤ میں آکر چین سے تعلقات ختم نہیں کریں گے، وزیر اعظم


اسلام آباد: وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کسی کے دباؤ میں آکر چین کے ساتھ تعلقات کو کبھی ختم نہیں کرے گا۔

وزیر اعظم عمران خان نے چینی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے چین کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں اور پاکستان کرپشن کے خلاف اقدامات کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرپشن سے ایلیٹ طبقہ فائدہ حاصل کرتا ہے اور غریب متاثر ہوتا ہے۔ چین نے غربت سے جس طرح اپنی عوام کو نکالا وہ حکمت عملی قابل تعریف ہے۔ چین پاکستان کی مختلف شعبوں میں مدد کر رہا ہے جبکہ چین اور پاکستان کے تعلقات گہرے اور پرانے ہیں

وزیر اعظم نے کہا کہ چینی صدر کی انسداد بدعنوانی کے خلاف مہم انتہائی مؤثر ہے۔ سی پیک ایک منفرد ماڈل ہے اور اس سے خطے کو فائدہ ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ مغربی جمہوریت کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بہترین نظام ہے۔

سی پیک پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم  نے کہا کہ آئندہ ہفتے گوادر کا دورہ کر رہا ہوں وہاں سی پیک منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ لوں گا۔ ہم نے سی پیک منصوبوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کی۔ سی پیک کا اگلہ مرحلہ پاکستان کے لیے بہت حوصلہ افزا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی نظام حکومت میں لچک ہے وہ جب کوئی چیز تبدیل کرنا چاہتے ہیں تو نظام اس کی حمایت کرتا ہے۔ ہم چین سے زراعت کے شعبے میں تعاون کے خواہاں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا:بھنگ، افیوم سےادویات بنانے اور کاشت کےمتعلق کام شروع

وزیر اعظم نے کہا کہ چینی صدر شی جن پنگ کو جدید دور کا عظیم سیاستدان سمجھا جاتا ہے۔ چین نے ہر وقت ہر مشکل میں پاکستان مدد کی جبکہ  چین نے کورونا ویکسین ہمیں عطیہ کی جس پر ان کے شکرگزار ہیں۔

کشمیر سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کشمیر سمیت دنیا میں ناانصافی کے متعدد واقعات ہوئے لیکن ان پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کیے جا رہے ہیں لیکن مغربی میڈیا کی کم کوریج منافقانہ رویہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ادراے مضبوط ہوتے ہیں تو کھیل کو بھی فروغ ملتا ہے اور ٹیلنٹ ابھرتا ہے۔ پاکستان اور چین کے تعلقات پرانے ہیں اس کا بھارت کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

عمران خان نے کہا کہ چین میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق آگاہی ہے اور چینی صدر شی جن پنگ اس پر کام کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں انسایت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ماحولیاتی آلودگی ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں افغانستا ن میں کیا ہو گا کسی کو نہیں معلوم لیکن افغانیوں نے تاریخ میں بیرونی مداخلت کبھی قبول نہیں کی اور ہمارا پہلے سے یہی مؤقف رہا ہے کہ افغانستان مسئلے کا حل عسکری نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ امریکہ نے افغان مسئلے کو عسکری قوت سے حل کرنے کی بڑی غلطی کی اور اب اگرافغانستان میں خانہ جنگی ہوتی ہے تو پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہو گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ہر صورت افغانستان کا سیاسی حل چاہتے ہیں۔ چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات پر تشویش ہے کیونکہ دنیا ایک مرتبہ پھر دو حصوں میں تقسیم ہوجائے گی۔


متعلقہ خبریں