ٹک ٹاک نے 64لاکھ سے زائد پاکستانی ویڈیوز ہٹا دیں

فائل فوٹو


پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے پر پاکستان میں تین ماہ میں ساٹھ لاکھ سے زائد ویڈیوز ایپلی کیشن سے ہٹا دی گئی ہیں۔

مختصر ویڈیوز بنانے اور شیئر کرنے والے چینی ایپلی کیشن نے اپنی سہ ماہی ‏ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کی ہے۔

پاکستانی مارکیٹ سے ٹک ٹاک کے 64 لاکھ 90 ہزار سے زائد ویڈیوز ہٹائیں پاکستان دوسری بڑی مارکیٹ ہے جہاں امریکا کے بعد سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق ٹک ٹاک ‏کی کمیونٹی گائیڈ لائنز، ٹرمز آف سروس کی خلاف ورزی کرنے والی اور کووِڈ19-کے بارے میں ‏گمراہ کن معلومات پھیلانے والی ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔

مختصرویڈیو شیئر کرنے والی ایپ ٹک ٹاک نے پہلی بار اپنے  صارفین کے لیے پالیسی متعارف کرا دی ہے۔

ٹک ٹاک کو بند کرنے کے لیے مختلف ممالک میں مقدمات دائرتھے۔ جس کے بعد اس ویڈیو شیئرنگ ایپ نے صارفین کے لیے پالیسی بنانے کا فیصلہ کیا۔

پالیسی بنانے کے بعد پہلے ہی روز کمپنی نے 70 لاکھ سے زیادہ مشتبہ اور کم عمر صارفین کے  اکاؤنٹس کو بند کردیا ہے۔

ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کا فیصلہ پڑھ کر سر چکرا گیا، فواد چوہدری

ٹک ٹاک نے پالیسی میں 13 سال سے زائد کے عمر کے  بچوں کو اکاؤنٹ بنانے کی اجازت دی ہے لیکن ان کے اکاؤنٹ پبلک نہیں ہوں گے۔

رپوٹ کے مطابق ایپ سے  چھ کروڑ انیس لاکھ اکاون ہزار ویڈیوز ہٹائی گئی ہیں۔ جن میں %82 ایسی تھیں جن کو صارفین کے  دیکھنے سے پہلے ہی ہٹا دیا گیا جبکہ %91 ایسی تھیں جن کو رپوٹ کیا گیا تھا اور %93  ایسی ویڈیوز تھیں جو پالیسی کی خلاف ورزی کی وجہ سے ہٹائی گئی ہیں۔

انیس لاکھ سے زائد  ایسے اشتہا رات ہٹائے گے جو ٹک ٹاک کی پالیسی کے خلاف تھے۔ تقریبا ایک کڑور گیارہ لاکھ انچاس ہزار سے زائد اکاؤنٹس ٹک ٹاک کی پالیسی کے آنے کے بعد ہٹائے گئے ہیں۔

ٹک ٹاک  کی پالیسی بناتے ہوئے حاص طور پر کم عمر صارفین کو مدنظر رکھا گیا  تاکہ بچوں کے وقت اور مستقبل کو مخفوظ کیا جا سکے۔ پالیسی کے مطابق 16 سال اور اس سے زاہد کے افراد ٹک ٹاک  اکاؤنٹز پبلک ہوں گے۔

 


متعلقہ خبریں