طالبان کا خطرناک ’پائلٹ کلنگ‘منصوبہ

امریکا کی جانب سے انخلا کی تاریخ کے اعلان کے بعد افغانستان پر طالبان کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے اور افغان افواج ان کیخلاف لڑنے میں مصروف ہیں۔

افغان عسکری حکام کیلئے سب سے تشویشناک بات افغان فضائیہ کے پائلٹس کا قتل ہے کیوں کہ فضایئہ کی وجہ سے سرکاری فوج کو طالبان پر برتری حاصل ہے۔

طالبان کے پاس چونکہ فضائی قوت نہیں لہذا افغان فضائیہ کو امریکی اور نیٹو افواج نے بھاری سرمایہ کاری سے تربیت فراہم کی ہے اور یہ میدان جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

امریکی انخلا کے بعد طالبان کابل سمیت تمام اہم مقامات کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن افغان فضائیہ ان کیلئے مشکل پیدا کر سکتی ہے۔

گزشتہ ایک ماہ میں افغان فضائیہ کے کم سےکم8 پائلٹس قتل ہو چکے ہیں۔ ان تمام پائلٹس کو اس وقت مارا گیا جب وہ ڈیوٹی پر نہیں تھے۔

نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق افغان فضائیہ کا ایک میجر دستگیر زمرے طالبان کے خوف سے اپنا گھر فروخت کرکے محفوظ مقام پر منتقل ہوا تھا لیکن اسے وہاں بھی سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے زمرے کو ہلاک کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ طالبان نے ایک ایسا پروگرام شروع کیا ہے جس میں افغان فضائیہ کے پائلٹوں کو قتل کیا جائے گا کیونکہ یہ سب اپنے لوگوں کے خلاف بمباری کرتے ہیں۔

افغان حکومت کے ایک سینئر عہدیدار نے نام چھپانے کی شرط پر بتایا کہ’افغان پائلٹ طالبان کی ہٹ لسٹ پر ہیں، ہم انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں‘۔

امریکی اعدادوشمار کے مطابق نومبر 2020  سے اپریل 2021 کے درمیان افغان فضائیہ کے پاس صرف 13 ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر ہیں اور ان کو اڑانے کیلئے 65 پائلٹ اور کوپائلٹ ہیں۔

فضائیہ کے160 طیاروں میں سے140 قابل استعمال ہیں اور ان کیلئے صرف 339 تربیت یافتہ افراد ہیں۔

متعدد افغان پائلٹوں نے طالبان کی طرف سے مسلسل موت کی دھمکیوں اور ان کو دستیاب ناکافی تحفظ کی وجہ سے ہجرت بھی کی ہے۔

ایک پائلٹ میجر نعیم اسدی امریکی ریاست نیو جرسی میں پناہ لی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اسدی کا کہنا تھا کہ حکومت پائلٹوں کی تربیت پر بہت زیادہ رقم خرچ کرتی ہے لیکن ان کی ذاتی حفاظت کے لئے پائلٹوں پر کوئی رقم خرچ نہیں کی جاتی۔

پائلٹوں کے قتل کے واقعات اس سے قبل سامنے نہیں آئے۔ امریکا اور افغان حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹوں کا قتل ان کے عسکری اثاثوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ ان پائلٹس کو نیٹو اور امریکا نے تربیت دی ہے۔

 

متعلقہ خبریں