کانگو وائرس سے کیسے بچا جائے ؟

اسلام آباد: عید الضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی کانگو وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو جاتا ہے تاہم اس سے کیسے بچا جائے ؟

کانگو وائرس گزشتہ 20 سالوں سے پاکستان میں موجود ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ اکثر عیدالضیٰ کی موقع پر جب جانوروں کی نقل و حمل بڑھ جاتی ہے تو اس وائرس کے کیسز میں اچانک اضافہ ہونے لگتا ہے۔

کانگو وائرس ایک قسم کے کیڑے سے پھیلتا ہے جو مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکریوں، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے اور یہ ان جانوروں کا خون چوستا ہے۔ یہی کیڑا کانگو وائرس کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا کیڑے سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے اور یوں کانگو وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے جو دیگر انسانوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔

کانگو وائرس کو چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے جو ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیلتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

کانگو وائرس سے متاثر ہونے والا شخص ایک ہفتے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا وائرس دماغی توازن خراب کر سکتا ہے، تحقیق

کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، کمزوری، منہ میں چھالے اور آنکھوں میں سوجن ہوتی ہے۔ تیز بخار سے انسانی جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد میں تیزی سے کمی آتی ہے۔

وائٹ سیلز کی کمی کی وجہ سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور جسم سے خون نکلنے لگتا ہے جو پھیپھڑوں، جگر اور گردے کو شدید متاثر کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست کیرالہ زیکا وائرس کی زد میں

کانگو سے بچاؤ کے لیے جانوروں میں کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جاتا ہے تاکہ کیڑوں کا خاتمہ ہو سکے۔ کانگو وائرس کے متاثرہ مریض سے ہاتھ ملانے سے بھی گریز کرنا چاہیے اور مریض کی عیادت کے بعد ہاتھوں کو اچھی طرح سے دھونا چاہیے۔

کانگو وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے لمبی آستینوں والی قمیض کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ جانوروں پر موجود کیڑوں کے کاٹے سے محفوظ رہا جائے اور بچوں کو مویشی منڈی میں لے کر جانے سے گریز کیا جائے کیونکہ مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلے سے اٹھنے والا تعفن بھی متاثر کر سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز