کیا چین کی کورونا ویکسین اپنی افادیت کھو رہی ہے؟

چین کے دو سرکاری دوا ساز ادارے سائنوویک اور سائنوفارم اپنی ویکسین دنیا کے بائیس ممالک کو برآمد کر چکے ہیں جن میں پاکستان میکسیکو، ترکی، انڈونیشیا، ہنگری، برازیل اور ترکی جیسے ممالک شامل ہیں۔ پاکستان نے بھی سرکاری سطح پر بڑی تعداد میں یہ ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

ایشیا میں اب تک لاکھوں افراد کو سائینو ویک اور سائنوفارم کی ویکسین لگائی جاچکی ہیں۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق حالیہ ہفتوں میں چینی ویکسین کی افادیت کے بارے میں اس وقت تشویش بڑھ گئی جب ایشیا کے دو بڑے ممالک انڈونیشیا اور تھائی لینڈ نے اپنی ویکسین پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو چینی ویکسین کی جگہ امریکہ اور برطانیہ کی تیارکردہ ویکسین لگوانے کا اعلان کردیا۔

پچھلے ہفتے تھائی لینڈ نے اعلان کیا کہ وہ اپنی ویکسین کی پالیسی میں تبدیلی لارہا ہے جس کے تحت شہریوں کو سائنوویک کی دو خوارکیں دینے کے بجائے اب سائنووک اور ایسٹرا زینیکا کی مکس ویکسین دی جائے گی۔

تھائی لینڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ ہیلتھ ورکرز جنہیں پہلے ہی سائنو ویک کے دو ٹیکے لگائے گئے تھے ان کی بھی قوت مدافعیت بڑھانے کے ایسٹرا زینیکا کے شاٹس بھی دیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو ایک کروڑ 19 لاکھ ویکسین کی خوراکیں موصول

پچھلے ہفتے انڈونیشیا نے بھی اسی طرح کے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ سائنوویک کی ویکسین لگوانے والے ہیلتھ ورکرز کی قوت مدافعیت کو بڑھانے کے لیے اب موڈرنا بوسٹر ویکسین دیے جائیں گے۔

بی بی سی کے مطابق ان دونوں ممالک میں چینی ویکسین سائنوویک اور سائنوفارم کی مکمل خوراکیں لینے والے ہیلتھ ورکرز میں سے بہت ساروں کو دوبارہ کورونا ہوگیا۔ چینی ویکسین لگوانے  کے باوجود تھائی میں دو اور انڈونیشیا میں 30 ہیلتھ ورکرز کورونا سے جاں بحق بھی ہوگئے ہیں۔

تھائی لینڈ میں کورونا اب تیزی سے پھیلنے لگا ہے اور اموات کی اطلاع سامنے آرہی ہیں جبکہ انڈونیشیا میں کورونا میں اضافے سے اسپتالوں میں رش بڑھا ہے اور آکسیجن کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

خیال رہے کہ اپریل میں چائنا سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے ڈائریکٹر گاؤ فو نے ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ”چینی ویکسینز کی حفاظت کی شرح زیادہ نہیں ہے۔‘‘

گاؤ فو کا مزید کہنا تھا اب یہ بات باضابطہ زیر غور ہے کہ آیا ہمیں ایمیونیٹی بڑھانے کے لیے مختلف تکنیکی لائنز کی مختلف ویکسینز استعمال کرنی چاہئیں۔

جرمن نیوز ایجنسی ڈی ڈبلیو کے مطابق چینی حکومتی اہلکاروں نے ڈائریکٹر گاؤ فو کے بیان پرکوئی تبصرہ نہیں کیا تھا لیکن سی ڈی سی کے ایک دوسرے اہلکار نے تصدیق کی تھی کہ اب ‘ایم آر این اے کے طریقہ کار‘ کو استعمال کرتے ہوئے ویکسین تیار کی جائیں گی۔

وانگ ہاؤ کنگ نامی اہلکار کا مزید کہنا تھا ”ہمارے ملک میں ایم آر این اے بیسڈ ویکسین کے کلینکل ٹرائل شروع کر دیے گئے ہیں۔‘‘ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ ویکسین کب تک مارکیٹ میں لائی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز