لینڈ سلائیڈنگ: شاہراہ قراقرم بدستور بند، سیاح محصور ہوکر رہ گئے

لینڈ سلائڈنگ: شاہراہ قراقرم بدستور بند، سیاح محصور ہوکر رہ گئے

لینڈ سلائیڈنگ سے بند شاہراہ قراقرم کو 36 گھنٹے گزرنے کے باوجود بحال نہ کیا جاسکا۔ لینڈ سلائیڈنگ سے چلاس اور گلگت کا زمینی رابطہ تاحال منقطع ہے۔

مختلف سیاحتی مقامات کے اردگرد بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات پیش آئے ہیں جس سے وہاں موجود سیاحوں کو مشکلات پیش آرہی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شاہراہِ قراقرم کے متعدد مقامات پر پتھروں کی رکاوٹوں سے سیاح پھنسے ہوئے ہیں جبکہ حکام کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں چلاس اور دیگر قامات پر بارشوں اور سیلاب کے بعد لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے جس کے بعد مسافر اور سیاح  پھنس کررہ گئے ہیں۔

لینڈ سلائڈنگ سے شاہرہ قراقرم کے متعدد مقامات بدستور بند ہیں جس کےے سبب دو طرفہ ٹریفک معطل ہے۔

گزشتہ رات لال پڑی کے مقام پر دوبارہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کام شاہراہ قراقرم کی بحالی کا روک دیا گیا تھا۔

شاہراہ قراقرم تتہ پانی اور لال پڑی سمیت متعدد مقامات پر بند ہے۔ شاہراہ قراقرم کی بندش سے سیاح اور مسافر جسن مین بچے اور خواتین بھی شامل ہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر: وادی نیلم میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی عائد کرنیکا اعلان

بارش کے باعث ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ سے ضلع غذر کا ٖگلگت شہر سے زمینی رابطے منقطع ہوگیا ہے۔ غذر کے بالائی علاقے دملگن میں لینڈ سلائیڈنگ سے تحصیل یاسین کا دیگر شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہے۔

ضلع غذر کی تحصیل گوپس میں چریتوئی کے مقام پربھی لینڈ سلائیڈنگ آئی ہے جس کے باعث گلگت چترال روڈ پر ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔

دوسری جانب دریائی کٹاؤ کے باعث گلگت سے ملانے والی اشکومن روڈ آج چوتھے روز بھی بند ہے، جبکہ بالائی علاقے بلہنز سے بدصوات تک گلیشیئر سرکنے سے سڑک مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

اشکومن کے بالائی علاقے ایمت کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ گزشتہ پانچ روز سے منقطع ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز