کورونا سے محفوظ ملبوسات بنانے کا دعویٰ، مہنگا پڑ گیا: کروڑوں کا جرمانہ ہو گیا

کورونا سے محفوظ ملبوسات بنانے کا دعویٰ، مہنگا پڑ گیا: کروڑوں کا جرمانہ ہو گیا

کینبرا: ملبوسات تیار کرنے والی معروف کمپنی لورنا جین کو کورونا سے محفوظ کپڑے بنانے کا دعویٰ کرنا بہت مہنگا پڑ گیا ہے۔ عدالت نے لورنا جین پر 26 لاکھ برطانوی پاؤنڈز ( مساوی 58 کروڑ پاکستانی روپے) جرمانہ کردیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

پاکستان میں کورونا کیسز کی تعداد 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی

عالمی خبر رساں اداروں اور مؤقر اخبارات کے مطابق آسٹریلیا کی کپڑے بنانے والی کمپنی لورنا جین نے کچھ عرصے قبل دعویٰ کیا تھا کہ وہ عالمی وبا قرار دیے جانے والے کورونا وائرس سے محفوظ رکھنے والے ملبوسات تیار کررہی ہے۔ کمپنی کی جانب سے اس طرح کورونا کو ختم کرنے کا بھی دعویٰ سامنے آیا تھا۔

مؤقر جریدے اے بی سی نیوز کے مطابق آسٹریلوی کمپنی لورنا جین کی جانب سے باقاعدہ دیے جانے والے اشہتارات میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس کے تیار کردہ ملبوسات میں ایل جے شیلڈ نامی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے جو بیماریاں پھیلانے والے جرثوموں کو روکنے کا کام سرانجام دیتی ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد لورنا جین کے چیف ایگزیکٹیو بل کلارکسن نے کہا کہ انہیں دراصل اپنے سپلائر کی جانب سے گمراہ کیا گیا۔ انہوں ںے کہا کہ ایک قابل اعتماد سپلائر نے ہمیں ایک ایسی پروڈکٹ فروخت کی جو وعدے کے مطابق کام نہیں کررہی تھی۔

بلا کلارکسن کے مطابق ہمارے سپلائر نے ہمیں اس بات پر یقین کرنے کے لیے کہا کہ ایل جے شیلڈ ٹیکنالوجی کو آسٹریلیا، امریکہ، چین اور تائیوان میں فروخت کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپلائر کا کہنا تھا کہ یہ دونوں اینٹی بیکٹیریل اور اینٹی وائرل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ہمیں یقین تھا کہ ہم اپنے صارفین کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔

کورونا کا مذاق اڑانا متنازعہ برطانوی مبصر کو مہنگا پڑ گیا

عدالتی فیصلے میں جج نے کہا کہ کمپنی کا یہ دعویٰ ممکنہ طور پر خطرناک ہے۔ کمپنی کی جانب سے عدالت کے اس فیصلے کو قبول کرلیا گیا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ قانونی کارروائی آسٹریلوی مسابقت اور صارف کمیشن (اے سی سی سی) کے ذریعے عمل میں لائی گئی ہے۔

آسٹریلوی ملبوسات تیار کرنے والی کمپنی لورنا جین نے کورونا کے دوران گذشتہ سال کے ماہ جولائی میں اپنے خصوصی لباس کی مارکیٹنگ شروع کی تھی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ لورنا جین نے صارفین سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کے پاس ٹیکنالوجی موجود ہے جب کہ حقیقت میں کمپنی کے پاس کوئی ٹیکنالوجی موجود ہی نہیں تھی ۔

عدالت نے کمپنی کو صارفین سے جھوٹ بولنے اورگمراہ کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے 26 لاکھ برطانوی پاؤنڈز کا جرمانہ عائد کیا ہے۔

سندھ: کورونا کیسز میں اضافہ، صوبائی حکومت کے سخت فیصلے

گذشتہ ہفتے اسی کمپنی کو مبینہ طور پر کورونا کے حوالے سے غیر قانونی اشتہار کے الزام میں تھراپیٹک گڈز ایڈمنسٹریشن ڈرگ ریگولیٹر نے 40،000 آسٹریلوی ڈالرز جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز