انتخابات کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں، کارکنان آپس کے اختلافات بھلا دیں: بلاول

کراچی: چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا ہے کہ انتخابات کسی بھی وقت ہو سکتے ہیں۔ انہوں ںے کہا کہ ہمیں تیاری شروع کرنی چاہیے۔ انہوں ںے کارکنان سے کہا کہ وہ 6 سے 7 ماہ کے لیے آپس کے اختلافات بھلا دیں۔

عمران خان کشمیری سفیر بننے کے بجائے کلبھوشن کے وکیل بن گئے، بلاول بھٹو

ہم نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے اور سب سے زیادہ کراچی متاثر ہو گا۔

انہوں ںے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کے باعث حکومت سندھ اقدامات کررہی ہے۔ انہوں ںے دعویٰ کیا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک لائحہ عمل بھی طے کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں کہ جلد از جلد تنظیم سازی مکمل کی جائے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی میں پی ٹی آئی کی شکل میں نئی ایم کیو ایم سامنے آئی ہے لیکن اس کا کراچی سے صفایا کردیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلی حکومت بنانی ہے تو کراچی سے نشستوں کی ضرورت ہو گی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کراچی کو بچانا ہے تو تحریک انصاف کو بھگانا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ ہمیں آپس کے اختلافات کو 6 سے 8 ماہ کے لیے بھولنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں آپس کے اختلافات کو سائیڈ پررکھنا ہوگا۔

انہوں ںے کہا کہ سندھ کو این ایف سی ایوارڈ میں اس کا حق نہیں دیا جاتا ہے۔ انہوں ںے کہا کہ سندھ کے پانے کے حصے میں بھی ابھی تک ایک قطرے کا اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے وفاق اور ایم کیو ایم کا مقابلہ کیا ہے۔

مزاحمت، مفاہمت کیلیے کررہے ہیں تو ہم آلہ کار کیوں بنیں؟ نیر بخاری کا استفسار

بلاول بھٹو نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان انتہاپسندی اور دہشت گردی کے دور سے نکل چکاتھا لیکن پاکستان کو ایک مرتبہ پھر تیار رہنا ہوگا۔

انہوں ںے کہا کہ کشمیر کے بعد سندھ پر حملہ کرنے والوں کو ناکامی ہوگی۔ انہوں نے آئندہ کے عزائم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ پر حملے کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے سیاسی لاوارثوں کوکچرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایک طرف کرکے شکست دیں گے۔

ہم نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن میں دھاندلی ہوئی لیکن اس کے باوجود پیپلزپارٹی بڑی اپوزیشن جماعت بن کر ابھری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو کشمیر میں ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ وزیراعظم نے کراچی میں پانی کا کوئی انتظام نہیں کیا حالانکہ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ پانی کے لیے منصوبہ لے کر آئیں گے۔ انہوں ںے پانی کو کراچی کا بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر قائد کا دوسرا بڑا مسئلہ کچرہ ہے۔

بےنظیر نے بلاول کو بتایا کہ کس ملک میں کتنے پیسے پڑے ہیں، وزیراعظم

بلاول بھٹو نے اعلان کیا کہ سا ل رواں کے آخر تک کراچی کے لیے نئی بسیں آجائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کچھ اضلاع ایم کیو ایم کے قبضے میں تھے تو وہاں کام نہیں ہوسکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو بچانے کے لیے پیپلزپارٹی ہی کردار ادا کرسکتی ہے اور درپیش بحران سے بھی نکال سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

ٹاپ اسٹوریز