کراچی سمیت سندھ میں لاک ڈاؤن کا فیصلہ

کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر پورے سندھ میں کل سے8اگست تک مکمل لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

لاک ڈاؤن کے دوران انٹر سٹی ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔ انتظامیہ سڑک پر آنے والے افراد کا ویکسی نیشن کارڈ چیک کرے گی۔

اگلے ہفتے سے تمام حکومتی دفاتر بھی بند کئے جائیں گے۔ فیصلے کے مطابق 31اگست کے بعد ویکسین نہ کرانے والوں کو تنخواہ ادا نہیں کی جائے گی۔

لاک ڈاؤن کے دوران ایکسپورٹ انڈسٹری اور میڈیکل اسٹور کھلے رہیں گے۔ ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لیے وفاقی قانون نافذ کرنےوالے اداروں سے مدد لی جائےگی۔

کراچی میں کورونا کے تیزی سے پھیلاؤ پر این سی اوسی نے اظہار تشویش کیا ہے۔ این سی او سی نے کورونا سے نمٹنے کیلئے سندھ حکومت کی ہر ممکن مدد کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کورونا ویکسین لگوانے کے باوجود ڈیلٹا پھیلنے کا انکشاف

سندھ میں انتہائی نگداہشت وارڈز، آکسیجن اور وینٹی لیٹر بیڈز بڑھائے جائیں گے۔ ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

صوبائی محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ روز کراچی میں کورونا کیسز کی شرح 23 فیصد سے بڑھ گئی ہے اور ضلع شرقی میں30 فیصد سے بڑھ گئی ہے۔

جولائی میں کورونا سے 362 مریض جاں بحق ہوئے۔ سندھ کے ہسپتالوں میں وینٹ کے ساتھ 686 آئی سی یو بیڈز موجود ہیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کوئی غیر ضروری گھر سے باہر نہ نکلے۔ کمشنر اور آئی جی سندھ کراچی میں شام 6 بجے کے بعد مکمل پابندی لگائیں۔ کراچی میں کوروناکیسزکی تعداد ڈھائی لاکھ سےتجاوزکرگئی ہے۔

متعلقہ خبریں