افغانستان کے اہم صوبائی دارالحکومت پر طالبان کا بڑا حملہ

افغانستان کے اہم صوبائی دارالحکومت پر طالبان کا بڑا حملہ

طالبان نے ہلمند صوبے کے سب سے اہم شہر اور دارالحکومت لشکرگاہ پر بڑا حملہ کردیا ہے جس کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز اور جنگجوؤں کے درمیان خوفناک دوبدو لڑائی جاری ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق طالبان اگر لشکرگاہ پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ جنگجوؤں کا کسی بھی صوبائی دارالحکومت پر پہلا باقاعدہ قبضہ ہوگا۔

ملک کے دیگر 34 صوبائی دارالحکومتوں پر بھی طالبان کا زور بڑھتا جا رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ جلد ہی وہ ان پر قبضہ کر لیں گے۔

امریکی اور افغان فضائی حملوں کے باوجود جنوبی ہلمند صوبے کے لشکرگاہ کا علاقہ عسکریت پسندوں کے شدید حملے کی مسلسل زد میں ہے۔

رپورٹس کے مطابق طالبان نے ایک ٹی وی اسٹیشن پر قبضہ کر لیا ہے جس کے بعد دیہی علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے ہزاروں افراد نے مختلف عمارتوں میں پناہ لی ہے۔

لشکر گاہ شہر میں قائم اسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بی بی سی کو بتایا کہ چاروں طرف لڑائی جاری ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان کے 200 اضلاع پر طالبان کا کنٹرول

دوسری جانب افغان حکومت نے عسکریت پسندوں سے لڑنے کے لیے سییکڑوں فوجی بکتر بند گاڑیوں سمیت تعینات کردیے ہیں۔

20 سال بعد افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا کے بعد حالیہ مہینوں طالبان کی جانب سے حملوں میں تیزی آئی ہے اور طالبان نے بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ہلمند امریکی اور برطانوی فوجی مہم کا مرکز تھا اور وہاں پر طالبان کا قبضہ افغان حکومت کے لیے بہت بڑا دھچکا ثابت ہوگا۔ اگر لشکرگاہ افغان فوج کے ہاتھ سے نکل گیا تو یہ 2016 کے بعد طالبان کا جیتنے والا پہلا صوبائی دارالحکومت ہوگا۔

دوسری جانب لشکرگای شہر میں ایک افغان فوجی کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت پر طالبان کی فتح عالمی سلامتی کے لیے تباہ کن اثرات چھوڑ سکتی ہے۔

میجر جنرل سمیع سادات نے بی بی سی کو بتایا کہ “یہ افغانستان کی جنگ نہیں ہے، یہ آزادی اور مطلق العنانیت کے درمیان جنگ ہے۔”

پیر کے روز افغان وزارت اطلاعات نے کہا تھا کہ  طالبان کی جانب سے حملوں کے بعد صوبہ ہلمند میں 11 ریڈیو اور چار ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔

افغانستان کی فوج اور سکیورٹی اداروں نے کئی اضلاع میں طالبان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے اور کئی علاقوں میں مقامی لوگ بھی طالبان کی پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کر رہے ہیں لیکن طالبان کی کامیابیوں کے مقابلے میں یہ تمام تر مزاحمت نہ ہونے کے برابر ہے۔

ایک عرصے سے مبصرین اور تجزیہ کار اس بارے میں خبردار کر رہے تھے کہ اگر افغانستان میں مرکزی حکومت اور طالبان کے درمیان بغیر کسی سیاسی تصفیے کے غیر ملکی فوجیوں کا انخلا ہوا تو ملک میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔

 

متعلقہ خبریں