کسی وقت بھی عام انتخابات ہو سکتے ہیں، بلاول بھٹو

کراچی: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کسی وقت بھی عام انتخابات ہو سکتے ہیں ہم اپنی تیاری کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت کراچی کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اس صوبے کے ساتھ ناانصافی کر رہی ہے اور وفاقی حکومت کراچی کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں ہے۔ وفاقی حکومت کراچی کے عوام کو صرف تکلیف دے سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کو ذاتی مفادات کے بجائے اصولوں کی سیاست کرنی ہو گی۔ جب تک پی ڈی ایم ہماری پالیسی اپنا رہی تھی حزب اختلاف مسلسل جیت رہی تھی۔ اگر حزب اختلاف سنجیدہ ہے تو شخصی نہیں بلکہ اصولوں کی سیاست کرے۔

بلاول  بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی تجویز پر ہی پی ڈی ایم نے ضمنی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ حکومت بہت غیر مستحکم ہے اور کسی بھی وقت عام انتخابات ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں غیر ملکی امداد کے انحصار نے کمزور کر دیا، وزیر اعظم

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کبھی بھی عوام کے سوا کسی اور کے اشاروں پر نہیں چلی اور آئندہ آنے والی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو گی۔ پیپلز پارٹی ہمیشہ عوام دشمنوں کی مخالفت کرے گی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پچھلے مون سون میں کہا تھا کہ گیارہ سو ارب روپے دیں گے لیکن ایک سال گزر گیا ایک قطرہ پانی، ایک میگا واٹ بجلی نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ نیشل ایکشن پلان کے تحت ہی دہشت گردی ختم کی جا سکتی ہے۔ عمران خان کو دہشت گردی کے خلاف پالیسی پر جائزہ لینا ہو گا۔ این ایف سی کا حق سندھ کو نہیں دیا جا رہا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عبدالقادر بلوچ اور ثنا اللہ زہری کی مسلم لیگ ن میں توہین کی گئی اور دونوں کو مسلم لیگ ن نے اپنے جلسے میں نہیں بلایا۔ لاہور کے ترجمانوں کو کوئٹہ کی سیاست کا علم نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم عثمان بزدار اور عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لاتے ہیں تو کل حکومت گر جائے گی۔ ہم پاکستان کو پرامن اور خوشحال پاکستان بنانا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں