داسو میں چینی انجینئرز پر حملہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑنکلا، وزیرخارجہ


وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ داسو میں چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ نکلا،  منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی اور اس سازش میں بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغانی ایجنسی این ڈی ایس شامل تھی۔پورے نیٹ ورک کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ چینی ورکرز کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا گیا۔ اس منصوبے کے ہینڈلر اور اس کے پورے نیٹ ورک کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چین کا داسو دھماکے کی تحقیقات میں شامل ہونے کا فیصلہ

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی خیبرپختونخوا جاویداقبال نے بتایا تحقیقات سے ہمیں معلوم ہوا کہ خودکش حملہ آورکا نام خالد عرف شیخ ہے جو پاکستانی نہیں۔

حملہ آور کے ہنڈلرایاز اورحسین تھے جن کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ واقعے میں 100سے120 کلوگرام بارود استعمال کیا گیا۔

حملہ آوروں کا پہلا ہدف دیامر بھاشا ڈیم تھا جس میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔ دیامربھاشا ڈیم پر ناکامی کے بعد دہشتگردوں نے داسومنصوبے کو نشانہ بنایا۔

حملے میں استعمال کی گئی گاڑی اسمگل کی گئی اور خودکش حملہ آور بھی پاکستانی نہیں تھا۔

آئی ای ڈی جس گاڑی میں نصب تھا اس کے ڈرائیور کا انگوٹھا، انگلی اور جسم کے مختلف حصے ملے۔ موقع سے ملے موبائل فونز کے ڈیٹا کی چھان بین کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: چین کا داسو دھماکے کی تحقیقات میں شامل ہونے کا فیصلہ

وزیرخارجہ نے بتایا کہ داسو میں چینی انجینئرز پر حملے میں ‘این ڈی ایس’ اور ‘را’ کا واضح گٹھ جوڑ ہے۔ داسو واقعے میں افغان سرزمین استعمال ہوئی۔

ایک ملزم طارق کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی سے ہے۔ حملے میں استعمال کی گئی گاڑی پر نمبر پلیٹ نہیں تھی اپلائیڈ فار تھی۔

گاڑی چمن کے راستے پاکستان آئی اور سوات پہنچی۔ نومبر2020 کے مہینے میں حسین نامی شخص نے گاڑی سوات کے شوروم سے لی۔ 7جولائی کو گاڑی حملہ آوروں کے حوالے کی گئی ۔

طارق نامی افغان باشندہ خودکش حملہ آور کو حملے کے مقام تک لایا۔ معاویہ اور طارق نامی افغان شہریوں نے ‘را’، این ڈی ایس کے ذریعے حملے کی تیاری کی۔

حکومت پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے منصوبہ سازوں کو پاکستان کے حوالے کرے۔

شاہ محمود نے کہا کہ اس واقعے پراصولی طور پر افغانستان کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔ جب افغانستان کو ہماری مدد درکارہوگی ہم مدد کرنےکیلئے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب تک کی تحقیقات سے چین مطمئن نظرآیا ہے۔ سی پیک کےتمام پراجیکٹس جاری رہیں گے اور بروقت مکمل کیے جائیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیرخارجہ نے بتایا کہ عاصم سلیم باجوہ کےاستعفےکا اس واقعےسےکوئی تعلق نہیں۔

متعلقہ خبریں