اشرف غنی کہاں گیا؟

مفرور صدر اشرف غنی کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا

سابق افغان صدر اشرف غنی کے متعلق تاحال معلوم نہیں ہے کہ وہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد کہاں رو پوش ہیں۔

قبل ازیں افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ وہ ازبکستان میں ہیں۔ تاہم ازبک وزارت خارجہ نے اس کی تردید کر دی ہے۔

رشید دوستم کی بیٹی نے دعویٰ کیا تھا کہ اشرف غنی کا طیارہ تاجکستان کی جانب گیا ہے۔ لیکن تاجک حکومت نے سابق صدر کی تاجکستان میں موجودگی کی تردید کردی۔

یہ بھی پڑھیں:اشرف غنی چار گاڑیاں، ایک ہیلی کاپٹر ڈالروں سے بھر کرنکلا،اضافی رقم پھینکنی پڑی

تاجک حکومت نے کہا کہ سابق صدر کا طیارہ تاجکستان میں نہیں اترا۔

بعد ازاں اشرف غنی کی عمان میں جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئیں مگر عمان نے بھی ان کے آنے کی تردید کردی۔

عمان حکومت نے کہا کہ اشرف غنی کے طیارے کو عمان آنے کی اجازت نہیں ہے۔ کابل سے فرار ہونے کے بعد سابق صدر نے فیس بک پر بیان دیا تھا کہ انہوں نے خون خرابہ روکنے کے لیے ملک چھوڑا۔

متعلقہ خبریں