بھیڑوں کی مدد سے دل بنا کر آخری سلا م کا پیغام

دنیا بھر میں کورونا وائرس نے لاکھوں لوگوں کی جان لی تو ایک دوسرے سے جدائی کا سبب بھی بنا، اپنوں کو کھو دینا اور انہیں الوادع بھی نہ کہہ پانا زندہ رہ جانے والوں کے لیے بھی کسی موت سے کم نہیں۔

آسٹریلوی کسان نیو ساؤتھ ویلز میں کوئنز لینڈ سے 400 کلومیٹر کی دوری پر تھے جب ان کی آنٹی ڈیبی دو سال تک کینسر سے جنگ لڑنے کے بعد زندگی کی بازی ہار گئیں۔

کورونا کی وجہ سے سفری پابندیوں کی وجہ سے آسٹریلوی شہری جیکسن اپنی آنٹی کی آخری رسومات میں شرکت کرنے سے محروم ہو گیا جس کا دکھ اس کی برداشت سے باہر تھا۔

یہ بھی پڑھیں:گوگل کا خواتین کو منفرد انداز میں خراج تحسین

تاہم اس نے اپنے دل کا غم ہلکا کرنے اور اپنی آنٹی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے منفرد طریقہ اپنایا۔ اس نے اپنی چراہ گاہ میں اپنی بھیڑوں کو دل کی شکل میں اکھٹا کرنے کے لیے دل کی شکل بنا کر اس میں اناج ڈال دیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Sky News (@skynews)


جیسے ہی اس نے اپنے ریوڑ کو آذاد کیا دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں بھیڑیں دل کی شکل میں پھیل گئیں، جسے اس نے ڈرون کیمرے کے ذریعے عکس بند کر لیا۔  اور جب جیکسن نے اسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا تو یہ ویڈیو وائرل ہو گئی۔

بی بی سی سے گفتگو میں جیکسن کا کہنا تھا کہ ’میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا کہ میں وہاں جاتا اور اپنی آنٹی کو دیکھتا، انھیں خدا حافظ کہتا یا پھر ان کی آخری رسومات میں شریک ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:16ہزار فٹ کی بلندی پر واقع دنیا کا منفرد بارڈر

چرچ میں جیکسن کی آنٹی کی آخری رسومات میں ان کی یہ ویڈیو ان کے پسندیدہ گانے کے ساتھ پیش کی گئی۔ جیکسن کا کہنا تھا کہ ان کی آنٹی ان کی ان تخلیقی صلاحیتوں کو بےحد پسند کرتی تھیں اس لیے انہوں نے اسی آرٹ کے ذریعے ان سے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

 

متعلقہ خبریں