ظاہر جعفر پاگل نہیں، شراب نوشی کا عادی تھا، مالک تھراپی ورکس

نورمقدم کیس میں تھراپی ورکس کے مالک طاہر ظہور نے کہا ہےکہ ظاہر جعفر پاگل نہیں، وہ شراب نوشی کا عادی تھا۔

اسلام آباد میں اپنے وکیل کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے طاہر ظہور کا کہنا تھا کہ ظاہرجعفر جب 2013 میں ان کے پاس آیا تب اسے کوئی بیماری نہیں تھی،اسے شراب نوشی کے مریض کے طور پر مجھے ریفر کیا گیا تھا، میں نے کہا شراب نوشی کی عادت ہے تو ظاہرجعفر کو اسپتال میں داخل کرایا جائے۔

طاہر ظہور نے کہا کہ تھراپی ورکس کرائم سین نہیں بلکہ ایک میڈیکل سین سمجھ کر گیا تھا، ہمیں انویسٹی گیشن آفیسر نے جھوٹ بول کر بیان لینے کے لیے بلایا،تھراپی ورکس کے پاس تمام کال ریکارڈ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نورمقدم کیس: چالان مکمل، ظاہر جعفر مجرم قرار، سزائے موت کی استدعا

تھراپی ورکس کے مالک نے کہا کہ انہوں نے ظاہر جعفر کے والد ذاکرجعفر کو کال کرکے کہا کہ وہاں تو ڈیڈ باڈی پڑی ہوئی ہے جس پر ذاکرجعفر کا جواب تھا کہ شاید شراب زیادہ پی لی ہوگی اس لیے قتل ہوگیا۔

ذاکرجعفر کا ری ایکشن معمولی تھا،ایسی خبر اگر کسی والد کو بتائی جائے تو ٹانگیں کانپ جانی چاہئیں۔

مزید پڑھیں:نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کا امریکی قونصلر سے رابطہ

ڈاکٹر طاہر ظہور کے وکیل محمد شہزاد قریشی نےکہا کہ تھراپی ورکس نے تمام بیان پولیس کو لکھ کر دے دیئے ہیں،پولیس نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔

موقع سے 14 ثبوت لیے گئے جوکہ فرانزک کیلئے بھجوا دیے گئے ہیں،ہم نے کوئی ثبوت مٹانے کی کوشش نہیں کی جس کے الزامات لگ رہے ہیں۔

کیس میں پولیس کا رویہ مثبت نہیں،پولیس کو دیکھتے ہی ظاہرجعفر نے ڈرامہ شروع کردیا تھا حالانکہ اس سے قبل وہ نارمل تھا۔

متعلقہ خبریں