فورڈ کمپنی کا بھارت میں کاروبار بند کرنے کا فیصلہ


کاریں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ نے بھارت میں اپنے پیداواری یونٹ بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے فیصلے سے تقریبا 4000 ملازمین متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

فورڈ کمپنی نے25 سال قبل بھارت میں اپنا کاروبار شروع کیا تھا اور اسے کم ازکم 2 ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

دو دہائیوں سے زائد وقت گزارنے کے بعد فورڈ کے پاس مارکیٹ کا2فیصد سے بھی کم حصہ تھا۔ کمپنی نے بھارت سے منافع کمانے کی بھرپور کوشش کی لیکن ناکام رہی۔

فورڈ انڈیا کے سربراہ انوراگ مہروترا نے بیان میں کہا کہ کوششوں کے باوجود ہم طویل مدتی منافع میں اضافہ نہیں کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ برسوں سے ہونے والے نقصانات اور متوقع نمو کم رہنے کے باعث فورڈ انڈیا کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

کمپنی نے کہا کہ اس نے بھارت میں 10 سالوں میں 2 ارب ڈالر سے زائد کے نقصانات برداشت کیے اور اس کی نئی گاڑیوں کی مانگ بھی کم رہی۔

فورڈ سے قبل جنرل موٹرز(جی ایم) اور ہارلے ڈیوڈسن (ایچ او جی. این) نے بھارت میں اپنا کاروبار کر چکی ہیں۔

امریکی کارساز کمپنی فورڈ 2021 کی چوتھی سہ ماہی تک مغربی ریاست گجرات میں اپنے پلانٹ اور 2022 تک چنئی میں اپنے پلانٹ میں گاڑیوں اور انجن کی تیاری کو بند کردے گی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ کمپنی درآمدات کے ذریعے بھارت میں اپنی کچھ کاریں فروخت کرتی رہے گی اور وہ موجودہ صارفین کی خدمت کے لیے ڈیلرز کو بھی مدد فراہم کرے گی۔

خیال رہے کہ  فورڈ اور مہندرا اینڈ مہندرا (ایم اے ایچ ایم) کارساز کمپنی کے درمیان شراکت داری کا معاہدہ نہیں ہو پایا تھا۔

معاہدے کی صورت میں فورڈ کو فی الحال کم قیمت پر کاروں کی پیداوار جاری رکھنے کی اجازت مل سکتی تھی لیکن اسے کچھ پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔

فورڈ  کمپنی نے کہا کہ پیداوار بند کرنے کا فیصلہ شراکت داری، پلیٹ فارم شیئرنگ، کنٹریکٹ مینوفیکچرنگ اور اپنے مینوفیکچرنگ پلانٹس کی فروخت کے امکانات سمیت کئی دیگر آپشنز پر غور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔

 


متعلقہ خبریں