الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو سیاسی فٹ بال نہ بنائیں، عارف علوی

صدر پاکستان عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستان درست سمت کی جانب گامزن ہے، اس ملک میں بہت سی تبدیلیاں آئی ہیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کو سیاسی فٹ بال نہ بنائیں۔

اسیپکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کورونا کے باعث دنیا بھرکی معیشتیں متاثرہوئیں لیکن پاکستان کی معیشت مستحکم رہی۔

عارف علوی نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان نے اندرونی و بیرون محاذ پر کئی کامیابیاں حاصل کیں، پاکستان نے اللہ تعالیٰ کے فضل اور موجودہ حکومت کی موثر پالیسیوں سے کورونا وباء کا موثر مقابلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملکی ترسیلات زر19.4 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں، پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے بہتر کارکردگی کے حوالے سے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ ڈالے اور دنیا بھر میں چوتھی بہترین سٹاک مارکیٹ قرار پائی ہے۔

صدر نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار شروع کرنے میں آسانی کے حوالے سے 28 درجے بہتری آئی ہے جب کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف بی آر نے گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زائد ٹیکس محاصل اکٹھے کیے، تمام اعدادو شمار سرمایہ کاروں اور عوام کی جانب سے حکومت پر مکمل اعتماد کا مظہرہیں۔

عارف علوی نے کہا کہ غریب اور متوسط طبقے کیلئے اپنی چھت کی فراہمی کیلئے خصوصی ہاؤسنگ سکیم شروع کی گئی۔ حکومتی ترغیبات کے باعث تعمیراتی شعبے میں 47ارب مالیت کے منصوبے رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی اقدامات کے باعث آئی ٹی برآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے، پاکستان میں نوجوانوں کو ہنرمند بنانے کیلئے متعدد پروگرامز کا اجراء کیا جاچکا ہے۔

صدر مملکت نے کہا کہ اب تک 17 لاکھ نوجوانوں کو فنی تربیت فراہم کی جا چکی ہے،حکومتی کارکردگی اور کامیابیوں کو شور شرابے کے ذریعے نہیں روکا جا سکتا۔

اجلاس میں صدر عارف علوی کے خطاب کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ شروع کیا اور بعد ازاں بائیکاٹ کر کے ایوان سے چلے گئی۔

دوسری جانب صحافیوں کو پریس گیلری میں جانے سے روک دیا گیا جس کے خلاف انہوں نے اسمبلی کے گیٹ نمبر ون کے سامنے احتجاجی دھرنا دے دیا۔

پارلیمانی رپورٹرز ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ انہیں آج اجلاس کی کوریج کے لیے پریس گیلری میں نہیں جانے دیا گیا وہاں پر غیر صحافی لوگ موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں